خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 322 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 322

خلافة على منهاج النبوة ۳۲۲ جلد اول بولتے ہو۔اگر خدا تعالیٰ ہم پر پتھر پھینکتا تو اس کا کوئی پتھر خطا نہ جاتا لیکن تمہارے پھینکے ہوئے پتھر تو ادھر اُدھر بھی جا پڑتے ہیں۔یہ فرما کر آپ ان کے سامنے سے ہٹ گئے۔فتنہ فرو کرنے میں صحابہ کی مساعی جمیلہ گو صحابہ کو اب حضرت عثمان کے پاس جمع ہونے کا موقع نہ دیا جاتا تھا مگر پھر بھی وہ اپنے فرض سے غافل نہ تھے۔مصلحت وقت کے ماتحت انہوں نے ا دوحصوں میں اپنا کام تقسیم کیا ہوا تھا۔جو سن رسیدہ اور جن کا اخلاقی اثر عوام پر زیادہ تھا وہ تو اپنے اوقات کو لوگوں کے سمجھانے پر صرف کرتے اور جولوگ ایسا کوئی اثر نہ رکھتے تھے یا نوجوان تھے وہ حضرت عثمان کی حفاظت کی کوشش میں لگے رہتے۔اوّل الذکر جماعت میں سے حضرت علیؓ اور حضرت سعد بن وقاص فاتح فارس فتنہ کے کم کرنے میں سب سے زیادہ کوشاں تھے۔خصوصاً حضرت علی تو اس فتنہ کے ایام میں اپنے تمام کام چھوڑ کر اس کام میں لگ گئے تھے چنانچہ ان واقعات کی رؤیت کے گواہوں میں سے ایک شخص عبد الرحمن نامی بیان کرتا ہے کہ ان ایام فتنہ میں میں نے دیکھا ہے کہ حضرت علیؓ نے اپنے تمام کام چھوڑ دیئے تھے اور حضرت عثمان کے دشمنوں کا غضب ٹھنڈا کر نے اور آپ کی تکالیف دور کرنے کی فکر میں ہی رات دن لگے رہتے تھے۔ایک دفعہ آپ تک پانی پہنچنے میں کچھ دیر ہوئی تو حضرت طلحہ پر جن کے سپرد یہ کام تھا آپ سخت ناراض ہوئے اور اُس وقت تک آرام نہ کیا جب تک پانی حضرت عثمان کے گھر میں پہنچ نہ گیا۔دوسرا گر وہ ایک ایک دو دو کر کے جس جس وقت موقع ملتا تھا تلاش کر کے حضرت عثمان یا آپ کے ہمسایہ گھروں میں جمع ہونا شروع ہوا۔اور اس نے اس امر کا پختہ ارادہ کر لیا کہ ہم اپنی جانیں دے دیں گے مگر حضرت عثمان کی جان پر آنچ نہ آنے دیں گے۔اس گروہ میں حضرت علی ، حضرت طلحہ اور حضرت زبیر کی اولاد کے سوائے خود صحابہ میں سے بھی ایک جماعت شامل تھی۔یہ لوگ رات اور دن حضرت عثمان کے مکان کی حفاظت کرتے تھے اور آپ تک کسی دشمن کو پہنچنے نہ دیتے تھے۔اور گو یہ قلیل تعداد اس قدر کثیر لشکر کا مقابلہ تو نہ کر سکتی تھی مگر چونکہ باغی چاہتے تھے کوئی بہا نہ رکھ کر حضرت عثمان کو قتل کریں وہ بھی اس قدر