خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 321 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 321

خلافة على منهاج النبوة جلد اول توڑنا چاہتا ہے میں اس کے اس فعل پر راضی نہیں نہ خدا تعالیٰ راضی ہے۔ہاں وہ اپنی طرف سے جو چاہے کرے۔چونکہ حج کے دن قریب آ رہے تھے اور چاروں طرف سے لوگ مکہ مکرمہ میں جمع ہورہے تھے حضرت عثمان نے اس خیال سے کہ کہیں وہاں بھی کوئی فساد کھڑا نہ کریں اور اس خیال سے بھی کہ حج کے لئے جمع ہونے والے مسلمانوں میں اہل مدینہ کی مدد کی تحریک کریں حضرت عبد اللہ بن عباس کو حج کا امیر بنا کر روانہ کیا۔حضرت عبد اللہ بن عباس نے بھی عرض کی کہ ان لوگوں سے جہاد کرنا مجھے زیادہ پسند ہے مگر حضرت عثمانؓ نے اُن کو مجبور کیا کہ وہ حج کے لئے جاویں اور حج کے ایام میں امیر حج کا کام کریں تا کہ مفسد وہاں اپنی شرارت نہ پھیلا سکیں اور وہاں جمع ہونے والے لوگوں میں بھی مدینہ کے لوگوں کی مدد کی تحریک کی جاوے اور مذکورہ بالا خط آپ ہی کے ہاتھ روانہ کیا۔جب ان خطوں کا ان مفسدوں کو علم ہوا تو انہوں نے اور بھی سختی کرنا شروع کر دی اور اس بات کا موقع تلاش کرنے لگے کہ کسی طرح لڑائی کا کوئی بہانہ مل جاوے تو حضرت عثمان کو شہید کر دیں مگر ان کی تمام کوششیں فضول جاتی تھیں اور حضرت عثمان ان کو کوئی موقع شرارت کا ملنے نہ دیتے تھے۔مفسدوں کا حضرت عثمان کے گھر میں پتھر پھینکنا آخر تنگ آ کر یہ تدبیر سُوجھی کہ جب رات پڑتی اور لوگ سو جاتے حضرت عثمان کے گھر میں پتھر پھینکتے اور اس طرح اہل خانہ کو اشتعال دلاتے تا کہ جوش میں آکر وہ بھی پتھر پھینکیں تو لوگوں کو کہہ سکیں کہ انہوں نے ہم پر پہلے حملہ کیا ہے اس لئے ہم جواب دینے پر مجبور ہیں۔مگر حضرت عثمان نے اپنے تمام اہل خانہ کو جواب دینے سے روک دیا۔ایک دن موقع پا کر دیوار کے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ اے لوگو! میں تو تمہارے نزدیک تمہارا گناہ گار ہوں مگر دوسرے لوگوں نے کیا قصور کیا ہے۔تم پتھر پھینکتے ہو تو دوسروں کو بھی چوٹ لگنے کا خطرہ ہوتا ہے۔انہوں نے صاف انکار کر دیا کہ ہم نے پتھر نہیں پھینکے۔حضرت عثمان نے فرمایا کہ اگر تم نہیں پھینکتے تو اور کون پھینکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ خدا تعالیٰ پھینکتا ہوگا۔( نَعُوذُ بِاللهِ مِنْ ذلِكَ ( حضرت عثمان نے فرمایا کہ تم لوگ جھوٹ