خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 319 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 319

خلافة على منهاج النبوة ۳۱۹ جلد اول حضرت عثمان کا والیان حضرت عائشہ تو حج کو تشریف لے گئیں اور بعض صحابہ بھی جن سے ممکن ہوسکا اور مدینہ سے نکل سکے صوبہ جات کو مراسلہ مدینہ سے تشریف لے گئے اور باقی لوگ سوائے چند اکا بر صحابہ کے اپنے گھروں میں بیٹھ رہے اور آخر حضرت عثمان کو بھی یہ محسوس ہو گیا کہ یہ لوگ نرمی سے مان نہیں سکتے اور آپ نے ایک خط تمام والیانِ صوبہ جات کے نام روانہ کیا جس کا خلاصہ یہ تھا۔حضرت ابو بکر اور حضرت عمرؓ کے بعد ہلا کسی خواہش یا درخواست کے مجھے ان لوگوں میں شامل کیا گیا تھا جنہیں خلافت کے متعلق مشورہ کرنے کا کام سپر د کیا گیا تھا۔پھر بلا میری خواہش یا سوال کے مجھے خلافت کے لئے چنا گیا اور میں برابر وہ کام کرتا رہا جو مجھ سے پہلے خلفاء کرتے رہے اور میں نے اپنے پاس سے کوئی بدعت نہیں نکالی۔لیکن چند لوگوں کے دلوں میں بدی کا بیج بویا گیا اور شرارت جاگزیں ہوئی اور انہوں نے میرے خلاف منصوبے کرنے شروع کر دیئے۔اور لوگوں کے سامنے کچھ ظاہر کیا اور دل میں کچھ اور رکھا اور مجھ پر وہ الزام لگانے شروع کیے جو مجھ سے پہلے خلفاء پر بھی لگتے تھے۔لیکن میں معلوم ہوتے ہوئے بھی خاموش رہا اور یہ لوگ میرے رحم سے ناجائز فائدہ اُٹھا کر شرارت میں اور بھی بڑھ گئے اور آخر کفار کی طرح مدینہ پر حملہ کر دیا۔پس آپ لوگ اگر کچھ کر سکیں تو مدد کا انتظام کریں۔اسی طرح ایک خط جس کا خلاصہ مطلب ذیل میں درج ہے حج پر آنے والوں کے نام لکھ کر کچھ دن بعد روانہ کیا۔حضرت عثمان کا حاجیوں کے نام خط میں آپ لوگوں کو خدا تعالیٰ کی طرف توجہ دلاتا ہوں اور اس کے انعامات یاد دلاتا ہوں۔اس وقت کچھ لوگ فتنہ پردازی کر رہے ہیں اور اسلام میں تفرقہ ڈالنے کی کوشش میں مشغول ہیں۔مگر ان لوگوں نے یہ بھی نہیں سوچا کہ خلیفہ خدا بناتا ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے وعد الله الذينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ۔اور اتفاق کی قدر نہیں کی۔حالانکہ خدا تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللهِ