خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 309 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 309

خلافة على منهاج النبوة ۳۰۹ جلد اول خط پکڑا گیا اور عام اہل کوفہ نہایت غصہ سے واپس ہوئے تو ان میں سے ایک جماعت حضرت علیؓ کے پاس گئی اور ان سے مدد کی درخواست کی۔حضرت علی تو تمام واقعہ کو سن کر ہی اس کے جھوٹا ہونے پر آگاہ ہو چکے تھے اور اپنی خدا داد فراست سے اہل مصر کا فریب ان پر کھل چکا تھا۔آپ نے صاف انکار کر دیا کہ میں ایسے کام میں تمہارے ساتھ شریک نہیں ہوسکتا اُس وقت جوش کی حالت میں ان میں سے بعض سے احتیاط نہ ہو سکی اور بے اختیار بول اُٹھے کہ پھر ہم سے خط وکتابت کیوں کرتے تھے۔حضرت علی کے لئے یہ ایک نہایت حیرت انگیز بات تھی۔آپ نے اس سے صاف انکار کیا اور لاعلمی ظاہر کی اور فرمایا کہ خدا تعالیٰ کی قسم ہے میں نے کبھی کوئی خط آپ لوگوں کی طرف نہیں لکھا ۳۳۔اس پر ان لوگوں کو بھی سخت حیرت ہوئی کیونکہ در حقیقت خود ان کو بھی دھوکا دیا گیا تھا اور انہوں نے ایک دوسرے کی طرف حیرت سے دیکھا اور دریافت کیا کہ کیا اس شخص کے لئے تم غضب ظاہر کرتے ہو اور لڑتے ہو یعنی یہ شخص تو ایسا بزدل ہے کہ سب کچھ کر کرا کر موقع پر اپنے آپ کو بالکل بری ظاہر کرتا ہے ( نَعُوذُ بِاللهِ مِنْ ذَلِكَ) اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ان لوگوں میں بعض ایسے آدمی موجود تھے جو جعلی خطوط بنانے میں مہارت رکھتے تھے اور یہ بھی کہ ایسے آدمی مصریوں میں موجود تھے۔کیونکہ حضرت علی کے نام پر خطوط صرف مصریوں کی طرف لکھے جا سکتے تھے جو حضرت علی کی محبت کے دعویدار تھے۔پس اس خط کا جو حضرت عثمان کی طرف منسوب کیا جاتا تھا مصری قافلہ میں پکڑا جا نا اس بات کا روشن ثبوت ہے کہ اس کا لکھنے والا مد بینہ کا کو ئی شخص نہ تھا بلکہ مصری قافلہ کا ہی ایک فرد تھا۔خط کا واقعہ چونکہ حضرت عثمانؓ کے خلاف الزام لگانے والوں کے نزدیک سب سے اہم واقعہ ہے اس لئے میں نے اس پر تفصیلاً اپنی تحقیق بیان کر دی ہے اور گو اس واقعہ پر اور بسط سے بھی بیان کیا جا سکتا ہے مگر میں سمجھتا ہوں کہ جو کچھ بیان کیا جا چکا ہے اس امر کے ثابت کرنے کیلئے کہ یہ خط ایک جعلی اور بناوٹی خط تھا اور یہ کہ اس خط کے بنانے والے عبداللہ بن سبا اور اس کے ساتھی تھے نہ کہ مروان یا کوئی اور شخص ( حضرت عثمان کی ذات تو اس سے بہت