خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 305
خلافة على منهاج النبوة ۳۰۵ جلد اول اور اہل بصرہ بھی قریباً بالمقابل جہات پر چھ چھ منازل طے کر چکے ہوں گے اور اس طرح اہل مصر سے جو کچھ واقع ہوا اُس کی اطلاع دونوں قافلوں کو کم سے کم بارہ تیرہ دن میں مل سکتی تھی اور ان کے آنے جانے کے دن شامل کر کے قریباً چوبیس دن میں یہ لوگ مدینہ پہنچ سکتے تھے۔مگر یہ لوگ اس عرصہ سے بہت کم عرصہ میں واپس آگئے تھے۔پس صاف ثابت ہوتا ہے کہ مدینہ سے رخصت ہونے سے پہلے ہی ان لوگوں نے آپس میں منصو بہ بنا لیا تھا کہ فلاں تاریخ کوسب قافلے واپس مدینہ کوٹیں اور ایک دم مدینہ پر قبضہ کر لیں۔اور چونکہ مصری قافلہ کے ساتھ عبد اللہ بن سبا تھا اور وہ نہایت ہوشیار آدمی تھا اُس نے ایک طرف تو یہ دیکھا کہ لوگ اُن سے سوال کریں گے کہ تم بلا وجہ کوٹے کیوں ہوا اور دوسری طرف اس کو یہ بھی خیال تھا کہ خود اس کے ساتھیوں کے دل میں بھی یہ بات کھٹکے گی کہ فیصلہ کے بعد نقص عہد کیوں کیا گیا ہے اس لئے اس نے جعلی خط بنایا اور خود اپنے ساتھیوں کی عقلوں پر پردہ ڈال دیا اور غیظ وغضب کی آگ کو ان کے دلوں میں اور بھی بھڑ کا یا اور صدقہ کے اونٹ کا چرا لینا اور کسی غلام کو رشوت دے کر ساتھ ملا لینا کوئی مشکل بات نہیں۔سوئم اس خط کے پکڑنے کا واقعہ جس طرح بیان کیا جاتا ہے وہ خود غیر طبعی ہے کیونکہ اگر حضرت عثمان نے یا مروان نے کوئی ایسا خط بھیجا ہوتا تو یہ کیونکر ہوسکتا تھا کہ وہ غلام کبھی ان کے سامنے آتا اور کبھی چھپ جاتا۔یہ حرکت تو وہی شخص کر سکتا ہے جو خود اپنے آپ کو پکڑوانا چا ہے۔اس غلام کو تو بقول ان لوگوں کے حکم دیا گیا تھا کہ اس قافلہ سے پہلے مصر پہنچ جائے۔پھر بو یب مقام پر جو مصر کا دروازہ ہے اس شخص کا ان کے ساتھ ساتھ جانا کیونکر خیال میں آسکتا ہے قافلہ اور ایک آدمی کے سفر میں بہت فرق ہوتا ہے۔ایک آدمی جس سُرعت سے سفر کر سکتا ہے قافلہ نہیں کرسکتا کیونکہ قافلہ کی حوائج بہت زیادہ ہوتی ہیں اور سب قافلہ کی سواریاں ایک جیسی تیز نہیں ہوتیں۔پس کیونکر ممکن تھا کہ بویب تک قافلہ پہنچ جاتا اور وہ پیغا مبرا بھی قافلہ کے ساتھ ہی ہوتا اُس وقت تو اسے اپنی منزل مقصود کے قریب ہونا چاہیے تھا۔جو حالت وہ اس پیغامبر کی بیان کرتے ہیں وہ ایک جاسوس کی نسبت تو منسوب کی جاسکتی ہے پیغامبر کی نسبت منسوب نہیں کی جاسکتی۔اسی طرح جب اس پیغا مبر کو پکڑا گیا تو جو