خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 304
خلافة على منهاج النبوة ۳۰۴ جلد اول ہوگا مگر میرے نزدیک یہ خیال بالکل غلط ہے واقعات صاف بتاتے ہیں کہ یہ خط انہی مفسد وں نے بنایا ہے نہ کہ مروان یا کسی اور شخص نے۔اور یہ خیال کہ اگر انہوں نے بنایا ہوا تھا تو حضرت عثمان کا غلام اور صدقہ کا اونٹ ان کے ہاتھ کہاں سے آیا اور حضرت عثمان کے کا تب کا خط انہوں نے کس طرح بنا لیا اور حضرت عثمان کی انگوٹھی کی مہر اس پر کیونکر لگا دی ایک غلط خیال ہے۔کیونکہ ہمارے پاس اس کی کافی وجوہ موجود ہیں کہ یہ خط انہیں لوگوں نے بنایا تھا۔گو واقعات سے ایسا معلوم ہوتا ہے اور یہی قرین قیاس ہے کہ یہ فریب صرف چند ا کابر کا کام تھا اور کوئی تعجب نہیں کہ صرف عبد اللہ بن سبا اور اس کے چند خاص شاگردوں کا کام ہو اور دوسرے لوگوں کو خواہ وہ سر دارلشکر ہی کیوں نہ ہوں اس کا علم نہ ہو۔خط والے منصوبے کے ثبوت میں سات دلائل اس امر کا ثبوت کہ کارروائی انہی لوگوں میں سے بعض لوگوں کی تھی یہ ہے:۔اول ان لوگوں کی نسبت اس سے پہلے ثابت ہو چکا ہے کہ اپنے مدعا کے حصول کے لئے یہ لوگ جھوٹ سے پر ہیز نہیں کرتے تھے جیسا کہ ولید بن عتبہ اور سعید بن العاص کے مقابلہ میں انہوں نے جھوٹ سے کام لیا۔اسی طرح مختلف ولایات کے متعلق جھوٹی شکایات مشہور کیں جن کی تحقیق اکا بر صحابہ نے کی اور ان کو غلط پایا۔پس جب کہ ان لوگوں کی نسبت ثابت ہو چکا ہے کہ جھوٹ سے ان کو پر ہیز نہ تھا تو کوئی وجہ نہیں کہ اس امر میں ان کو ملزم نہ قرار دیا جاوے اور ایسے لوگوں پر الزام لگا یا جاوے جن کا جھوٹ ثابت نہیں۔دوم جیسا کہ حضرت علی اور محمد بن مسلمہ نے اعتراض کیا ہے ان لوگوں کا ایسی جلدی واپس آجانا اور ایک وقت میں مدینہ میں داخل ہونا اس بات کی شہادت ہے کہ یہ ایک سازش تھی۔کیونکہ جیسا کہ تاریخ سے ثابت ہوتا ہے اہل مصر بیان کرتے تھے کہ انہوں نے بویب مقام پر اس قاصد کو جو ان کے بیان کے مطابق حضرت عثمان کا خط والی مصر کی طرف لے جا ر ہا تھا پکڑا تھا۔بویب مدینہ سے کم سے کم چھ منازل پر واقع ہے اور اس جگہ واقع ہے جہاں سے مصر کا راستہ شروع ہوتا ہے۔جب اہل مصر اس جگہ تک پہنچ گئے تھے تو اہل کوفہ