خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 303 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 303

خلافة على منهاج النبوة جلد اول مدعی اپنے دعوی کی تائید میں دو گواہ پیش کرے یا یہ کہ مدعا علیہ کو تم دی جائے۔پس تم پر فرض ہے کہ تم دو گواہ اپنے دعوی کی تائید میں پیش کرو ورنہ میں اُس خدا کی قسم کھاتا ہوں جس کے سوا اور کوئی معبود نہیں کہ نہ میں نے یہ خط لکھا ہے نہ میرے مشورہ سے یہ خط لکھا گیا اور نہ ہی لکھوایا ہے نہ مجھے علم ہے کہ یہ خط کس نے لکھا ہے۔پھر فرمایا کہ تم لوگ جانتے ہو کہ کبھی خط جھوٹے بھی بنالئے جاتے ہیں اور انگوٹھیوں جیسی اور انگوٹھیاں بنائی جاسکتی ہیں۔جب صحابہ نے آپ کا یہ جواب سنا تو انہوں نے حضرت عثمان کی تصدیق کی اور آپ کو اس الزام سے بری قرار دیا۔مگر ان لوگوں پر اس کا کوئی اثر نہ ہوا اور ہوتا بھی کیونکر۔انہوں نے تو خود وہ خط بنایا تھا۔سوتے ہوئے آدمی کو تو آدمی جگا سکتا ہے جو جاگتا ہوا ور ظا ہر کرے کہ سو رہا ہے اُسے کون جگائے۔ان لوگوں کے سردار تو خوب سمجھتے تھے کہ یہ ہمارا اپنا فریب ہے۔وہ ان جوابات کی صحت یا معقولیت پر کب غور کر سکتے تھے اور ان کے اتباع ان کے غلام بن چکے تھے جو کچھ وہ کہتے وہ سنتے تھے اور جو کچھ بتاتے تھے اسے تسلیم کرتے تھے۔ان لوگوں پر نہ تو اثر ہوسکتا تھا نہ ہوا مگر باغیوں کے منصوبے کی اصلیت ! آنکھوں والوں کے لئے حضرت عثمان کا جواب شرم وحیا کی صفاتِ حسنہ سے ایسا متصف ہے کہ اس سے ان مفسدوں کی بے حیائی اور وقاحت اور بھی زیادہ نمایاں ہو جاتی ہے جب کہ وہ مفسد ا یک جھوٹا خط بنا کر حضرت عثمان پر فریب اور دھو کے کا الزام لگاتے ہیں۔اور جب کہ حضرت علی اور محمد بن مسلمہ واقعات سے نتیجہ نکال کر ان لوگوں پر صاف صاف دھو کے کا الزام لگاتے ہیں خود حضرت عثمان جن پر الزام لگایا گیا ہے اور جن کے خلاف یہ منصوبہ کھڑا کیا گیا ہے اپنے آپ سے تو الزام کو دفع کرتے ہیں مگر یہ نہیں فرماتے کہ تم نے یہ خط بنایا ہے بلکہ ان کی غلطی پر بھی پردہ ڈالتے ہیں اور صرف اسی قدر فرماتے ہیں کہ تم جانتے ہو کہ خط خط سے مل جاتا ہے اور انگوٹھی کی نقل بنائی جاسکتی ہے اور اونٹ بھی پھرایا جا سکتا ہے۔بعض لوگ جو حضرت عثمان کو بھی اس الزام سے بری سمجھتے ہیں اور ان لوگوں کی نسبت بھی حسنِ ظنی سے کام لینا چاہتے ہیں خیال کرتے ہیں کہ یہ خط مروان نے لکھ کر بطور خود بھیج دیا