خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 302 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 302

خلافة على منهاج النبوة ٣٠٢ جلد اول اور زیادہ شک ہوا۔آخر اس کی تلاشی لی گئی اور اس کے پاس سے ایک خط نکلا جو حضرت عثمان کا لکھا ہوا تھا اور اس میں والی مصر کو ہدایت کی گئی تھی کہ جس وقت مفسد مصر واپس کو ٹیں ان میں سے فلاں فلاں کو قتل کر دینا اور فلاں فلاں کو کوڑے، اور ان کے سر اور داڑھیاں منڈوا دینا اور جو خط ان کی معرفت تمہارے معزول کئے جانے کے متعلق لکھا ہے اس کو باطل سمجھنا۔یہ خط جب ہم نے دیکھا تو ہمیں سخت حیرت ہوئی اور ہم لوگ فوراً واپس لوٹے۔حضرت علی نے یہ بات سن کر فوراً ان سے کہا کہ یہ بات تو مدینہ میں بنائی گئی ہے کیونکہ اے اہل کوفہ اور اے اہل بصرہ! تم لوگوں کو کیونکر معلوم ہوا کہ اہل مصر نے کوئی ایسا خط پکڑا ہے حالانکہ تم ایک دوسرے سے کئی منزلوں کے فاصلے پر تھے اور پھر یہ کیونکر ہوا کہ تم لوگ اس قدر جلد واپس بھی آگئے۔اس اعتراض کا جواب نہ وہ لوگ دے سکتے تھے اور نہ اس کا کوئی جواب تھا پس انہوں نے یہی جواب دیا کہ جو مرضی آئے کہو اور جو چاہو ہماری نسبت خیال کرو ہم اس آدمی کی خلافت کو پسند نہیں کرتے اپنے عہدے سے دست بردار ہو جائے۔محمد بن مسلمہ جو اکابر صحابہ میں سے تھے اور جماعت انصار میں سے تھے کعب بن اشرف جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اور اسلام کا سخت دشمن تھا اور یہود میں ایک بادشاہ کی حیثیت رکھتا تھا جب اس کی شرارتیں حد سے بڑھ گئیں اور مسلمانوں کی تکلیف کی کوئی حد نہ رہی تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے ماتحت انہوں نے اس کو قتل کر کے اسلام کی ایک بہت بڑی خدمت کی تھی انہوں نے جب یہ واقعہ سنا تو یہی جرح کی اور صاف کہہ دیا کہ یہ صرف ایک فریب ہے جو تم نے کیا ہے۔حضرت عثمان کا باغیوں کیلئے کوصحابہ نے ان کی اس بات کو عقلاً رڈ کر دیا مگر ان لوگوں کی دلیری اب حد سے بڑھ گئی الزام سے بریت ثابت کرنا تھی۔باوجود اس ذلت کے جو ان کو پنچی تھی انہوں نے حضرت عثمان کے سامنے اس معاملہ کو پیش کیا اور آپ سے اس کا جواب مانگا۔اُس وقت بہت سے اکابر صحابہ بھی آپ کی مجلس میں تشریف رکھتے تھے۔آپ نے ان کو جواب دیا کہ شریعت اسلامیہ کے مطابق کسی امر کے فیصلہ کے دو ہی طریق ہیں۔یا تو یہ کہ