خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 301 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 301

خلافة على منهاج النبوة ٣٠١ جلد اول اہل مدینہ کا باغیوں کو سمجھانا جب اہل مدینہ کی حیرت ذرا کم ہوئی تو ان میں سے بعض نے مسجد کے پاس آکر جہاں ان کا مرکز تھا اُن کو سمجھانا شروع کیا اور ان کی اس حرکت پر اظہار نا راضگی کیا مگر ان لوگوں نے بجائے ان کی نصیحت سے فائدہ اُٹھانے کے اِن کو ڈرایا اور دھمکایا اور صاف کہہ دیا کہ اگر وہ خاموش نہ رہیں گے تو ان کیلئے اچھا نہیں ہوگا اور یہ لوگ ان سے بُری طرح پیش آویں گے۔باغیوں کا مدینہ پر تسلط قائم کرنا اب گویا مدینہ دار الخلافت نہیں رہا تھا خلیفہ وقت کی حکومت کو موقوف کر دیا گیا تھا اور چند مفسد اپنی مرضی کے مطابق جو چاہتے تھے کرتے تھے۔اصحاب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کیا اور دیگر اہل مدینہ کیا سب کو اپنی عزتوں کا بچانا مشکل ہو گیا تھا اور بعض لوگوں نے تو اس فتنہ کو دیکھ کر اپنے گھروں سے نکلنا بند کر دیا تھا۔رات دن گھروں میں بیٹھے رہتے تھے اور اس پر انگشت بدندان تھے ۳۲۔اکابر صحابہ کا باغیوں سے چونکہ یہ لوگ پچھلی دفعہ اپنی تسلی کا اظہار کر کے گئے تھے اور آئندہ کے لئے ان کو کوئی شکایت باقی نہ تھی واپسی کی وجہ دریافت کرنا صحابہ حیرت میں تھے کہ آخر ان کے لوٹنے کا باعث کیا ہے۔دوسرے لوگوں کو تو ان کے سامنے بولنے کی جرات نہ تھی چندا کا بر صحابہ جن کے نام کی یہ لوگ پناہ لیتے تھے اور جن سے محبت کا دعویٰ کرتے تھے انہوں نے ان سے دریافت کیا کہ آخر تمہارے اس کو ٹنے کی وجہ کیا ہے۔چنانچہ حضرت علی، حضرت طلحہ ، حضرت زبیر نے ان لوگوں سے ان کے واپس آنے کی وجہ دریافت کی۔سب نے بالا تفاق یہی جواب دیا کہ ہم تسلی اور تشفی سے اپنے گھروں کو واپس جا رہے تھے کہ راستہ میں ایک شخص کو دیکھا کہ صدقہ کے ایک اونٹ پر سوار ہے اور کبھی ہمارے سامنے آتا ہے اور کبھی پیچھے ہٹ جاتا ہے۔ہمارے بعض آدمیوں نے جب اسے دیکھا تو انہیں شک ہوا اور انہوں نے اس کو جا پکڑا۔جب اس سے دریافت کیا گیا کہ کیا تیرے پاس کوئی خط ہے؟ تو اس نے انکار کیا۔اور جب اس سے دریافت کیا گیا کہ تو کس کام کو جاتا ہے تو اس نے کہا مجھے علم نہیں۔اس پر ان لوگوں کو