خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 300
خلافة على منهاج النبوة جلد اول اور مصر کے لوگ مصر کی طرف۔اور اہل مدینہ امن و امان کی صورت دیکھ کر اور اُن کے لوٹنے پر مطمئن ہو کر اپنے اپنے کاموں پر چلے گئے لیکن ابھی زیادہ دن نہ گزرے تھے کہ ایسے وقت میں جب کہ اہل مدینہ یا تو اپنے کاموں میں مشغول تھے یا اپنے گھروں میں یا مساجد میں بیٹھے تھے اور ان کو کسی قسم کا خیال بھی نہ تھا کہ کوئی دشمن مدینہ پر چڑھائی کرنے والا ہے اچانک ان باغیوں کا لشکر مدینہ میں داخل ہوا اور مسجد اور حضرت عثمان کے گھر کا محاصرہ کر لیا اور تمام مدینہ کی گلیوں میں منادی کرا دی گئی کہ جس کسی کو اپنی جان کی ضرورت ہوا اپنے گھر میں آرام سے بیٹھا ر ہے اور ہم سے برسر پیکار نہ ہو ور نہ خیر نہ ہو گی۔ان لوگوں کی آمد ایسی اچانک تھی کہ اہل مدینہ مقابلہ کے لئے کوشش نہ کر سکے۔حضرت امام حسن بیان فرماتے ہیں کہ میں مسجد میں بیٹھا ہو ا تھا کہ اچانک شور ہوا اور مدینہ کی گلیوں میں تکبیر کی آواز بلند ہونے لگی ( یہ مسلمانوں کا نعرہ جنگ تھا ) ہم سب حیران ہوئے اور دیکھنا شروع کیا کہ اس کا باعث کیا ہے۔میں اپنے گھٹنوں کے بل کھڑا ہو گیا اور دیکھنے لگا۔اتنے میں اچانک یہ لوگ مسجد میں گھس آئے اور مسجد پر بھی اور آس پاس کی گلیوں پر بھی قبضہ کر لیا۔ان کے اچانک حملہ کا نتیجہ یہ ہوا کہ صحابہ اور اہل مدینہ کی طاقت منتشر ہوگئی اور وہ ان سے لڑ نہ سکے اور ان کا مقابلہ نہ کر سکے۔کیونکہ شہر کے تمام ناکوں اور مسجد پر انہوں نے قبضہ کر لیا تھا اب دو ہی راستے کھلے تھے۔ایک تو یہ کہ باہر سے مدد آوے اور دوسرا یہ کہ اہل مدینہ کسی جگہ پر جمع ہوں اور پھر کسی انتظام کے تحت ان سے مقابلہ کریں۔امراول کے متعلق ان کو اطمینان تھا کہ حضرت عثمان ایسا نہیں کریں گے کیونکہ ان کا رحم اور ان کی حُسنِ ظنی بہت بڑھی ہوئی تھی اور وہ ان لوگوں کی شرارت کی ہمیشہ تاویل کر لیتے تھے اور امردوم کے متعلق انہوں نے یہ انتظام کر لیا کہ مدینہ کی گلیوں میں اور اس کے دروازوں پر پہرہ لگا دیا اور حکم دے دیا کہ کسی جگہ اجتماع نہ ہونے پائے۔جہاں کچھ لوگ جمع ہوتے یہ اُن کو منتشر کر دیتے۔ہاں یوں آپس میں بولنے چالنے یا ا کے ڈ کے کومیل ملاقات سے نہ روکتے تھے۔