خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 298
خلافة على منهاج النبوة ۲۹۸ جلد اول جب یہ حال ان لوگوں نے دیکھا اور اس محمد بن ابی بکر کا والی مصر مقرر ہونا طرف سے بالکل مایوس ہو گئے تو آخر یہ تدبیر کی کہ اپنے فعل پر ندامت کا اظہار کیا اورصرف یہ درخواست کی کہ بعض والی بدل دیئے جائیں۔جب حضرت عثمان کو اس کا علم ہوا تو آپ نے کمال شفقت اور مہربانی سے اُن کی اس درخواست کو قبول کر لیا اور ان لوگوں کی درخواست کے مطابق مصر کے والی عبد اللہ بن ابی سرح کو بدل دیا اور ان کی جگہ محمد بن ابی بکر کو والی مصر مقرر کر دیا۔اس پر یہ لوگ بظا ہر خوش ہو کر واپس چلے گئے اور اہل مدینہ خوش ہو گئے کہ خدا تعالیٰ نے اسلام کو ایک سے بچا لیا۔مگر جو کچھ انہوں نے سمجھا درست نہ تھا کیونکہ ان لوگوں کے ارادے فساء عظ اور ہی تھے اور ان کا کوئی کام شرارت اور فساد سے خالی نہ تھا۔اختلاف روایات کی حقیقت یاد رکھنا چاہئے کہ یہی وقت ہے جب سے روایات میں نہایت اختلاف شروع ہو جاتا ہے اور جو واقعات میں نے بیان کئے ہیں ان کو مختلف راویوں نے مختلف پیرایوں میں بیان کیا ہے حتی کہ حق بالکل چُھپ گیا ہے اور بہت سے لوگوں کو دھوکا لگ گیا ہے اور وہ اس تمام کارروائی میں یا صحابہ کو شریک سمجھنے لگے ہیں یا کم سے کم ان کو مفسدوں سے دلی ہمدردی رکھنے والا خیال کرتے ہیں مگر یہ بات درست نہیں۔اُس زمانہ کی تاریخ کے متعلق بہت احتیاط کی ضرورت ہے کیونکہ اس زمانہ کے بعد کوئی زمانہ ایسا نہیں آیا جو ایک یا دوسرے فریق سے ہمدردی رکھنے والوں سے خالی ہو اور یہ بات تاریخ کے لئے نہایت مضر ہوتی ہے۔کیونکہ جب سخت عداوت یا نا واجب محبت کا دخل ہو روایت کبھی بعینہ نہیں پہنچ سکتی۔اگر را وی جھوٹ سے کام نہ بھی لیں تب بھی ان کے خیالات کا رنگ ضرور چڑھ جاتا ہے اور پھر تاریخ کے راویوں کے حالات ایسے ثابت شدہ نہیں ہیں جیسے کہ احادیث کے رواۃ کے۔اور گومؤرخین نے بہت احتیاط سے کام لیا ہے پھر بھی حدیث کی طرح اپنی روایت کو روزِ روشن کی طرح ثابت نہیں کر سکتے۔پس بہت احتیاط کی ضرورت ہے۔