خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 297
خلافة على منهاج النبوة ۲۹۷ جلد اول اغراض کیلئے مفید سمجھتے تھے۔اس اختلاف کے باعث ہر ایک قافلہ کے قائم مقاموں نے الگ الگ ان اشخاص کا رُخ کیا جن کو وہ حضرت عثمان کے بعد مسند خلافت پر بٹھانا چاہتے تھے۔اہل مصر حضرت علیؓ کے پاس گئے وہ اُس اہل مصر کا حضرت علیؓ کے پاس جانا وقت مدینہ سے باہر ایک حصہ لشکر کی کمان کر رہے تھے اور ان کا سر کچلنے پر آمادہ کھڑے تھے ان لوگوں نے آپ کے پاس پہنچ کر عرض کیا کہ حضرت عثمان بدانتظامی کے باعث اب خلافت کے قابل نہیں ہم ان کو علیحدہ کرنے کے لئے آئے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ آپ ان کے بعد اس عہد ہ کو قبول کریں گے۔انہوں نے ان کی بات سن کر اس غیرت دینی سے کام لے کر جو آپ کے رتبہ کے آدمی کا حق تھا ان لوگوں کو دھتکار دیا اور بہت سختی سے پیش آئے اور فرمایا کہ سب نیک لوگ جانتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشگوئی کے طور پر ذوالمروہ اور ذ وخشب ( جہاں ان لوگوں کا ڈیرہ تھا ) پر ڈیرہ لگانے والے لشکروں کا ذکر فرما کر ان پر لعنت فرمائی تھی سے پس خدا تمہارا بُرا کرے تم واپس چلے جاؤ۔اس پر ان لوگوں نے کہا کہ بہت اچھا ہم واپس چلے جائیں گے اور یہ کہہ کر واپس چلے گئے۔اہل کوفہ حضرت زبیر کے پاس گئے اہل کوفہ کا حضرت زبیر کے پاس جانا اور ان سے عرض کیا کہ آپ عہدہ خلافت کے خالی ہونے پر اس عہدہ کو قبول کریں۔انہوں نے بھی ان سے حضرت علی کا سا سلوک کیا اور بہت سختی سے پیش آئے اور اپنے پاس سے دھتکار دیا اور کہا کہ سب مومن جانتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ذوالمروہ اور ذوالخشب اور اعوص پر ڈیرہ لگانے والے لشکر لعنتی ہوں گے۔اسی طرح اہل بصرہ حضرت طلحہ کے اہل بصرہ کا حضرت طلحہ کے پاس جانا پاس آئے اور انہوں نے بھی ان کو رڈ کر دیا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی اور آپ کے ان پر لعنت کرنے سے ان کو آگاہ کیا۔