خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 296 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 296

خلافة على منهاج النبوة ۲۹۶ جلد اوّل اہل کوفہ اور اہل بصرہ کو مشورہ دیا کہ جلدی اچھی نہیں وہ اگر جلدی کریں گے تو اہل مصر کو بھی جلدی کرنی پڑے گی اور کام خراب ہو جائیگا۔انہوں نے کہا کہ ہمیں معلوم ہوا ہے کہ اہل مدینہ نے ہمارے مقابلہ کے لئے لشکر تیار کیا ہے اور جب ہمارے پورے حالات معلوم نہ ہونے کے باوجود انہوں نے اس قدر تیاری کی ہے تو ہمارا پورا حال معلوم ہونے پر تو وہ اور بھی زیادہ ہوشیاری سے کام لیں گے اور ہماری کامیابی خواب و خیال ہو جائے گی۔پس بہتر ہے کہ ہم پہلے جا کر وہاں کا حال معلوم کریں اور اہل مدینہ سے بات چیت کریں۔اگر ان لوگوں نے ہم سے جنگ جائز نہ سمجھی اور جو خبریں ان کی نسبت ہمیں معلوم ہوئی ہیں وہ غلط ثابت ہوئیں تو پھر ہم واپس آکر سب حالات سے تم کو اطلاع دیں گے اور مناسب کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔سب نے اس مشورہ کو پسند کیا اور یہ دونوں شخص مدینہ گئے اور پہلے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات سے ملے اور ان سے مدینہ میں داخل ہونے کی اجازت مانگی اور کہا کہ ہم لوگ صرف اس لئے آئے ہیں کہ حضرت عثمان سے بعض والیوں کے بدل دینے کی درخواست کریں اور اس کے سوا ہمارا اور کوئی کام نہیں۔سب ازواج مطہرات نے ان کی بات قبول کرنے سے انکار کیا اور کہا کہ اس بات کا نتیجہ اچھا نہیں۔پھر وہ باری باری حضرت علی، حضرت طلحہ، حضرت زبیر کے پاس گئے اور ان سے یہی وجہ اپنے آنے کی بیان کر کے اور اپنی نیک نیتی کا اظہار کر کے مدینہ میں آنے کی اجازت چاہی۔مگر ان تینوں اصحاب نے بھی ان کے فریب میں آنے سے انکار کیا اور صاف جواب دیا کہ ان کی اس کارروائی میں خیر نہیں ۲۹۔یہ دونوں آدمی مدینہ کے حالات معلوم کر کے اور اپنے مقصد میں ناکام ہوکر جب واپس گئے اور سب حال سے اپنے ہمراہیوں کو آگاہ کیا تو کوفہ، بصرہ اور مصر تینوں علاقوں کے چند سر بر آوردہ آدمی آخری کوشش کرنے کے لئے مدینہ آئے۔اہل مصر عبد اللہ بن سبا کی تعلیم کے ماتحت حضرت علی کو وصی رسول اللہ خیال کرتے تھے اور ان کے سوا کسی اور کے ہاتھ پر بیعت کرنے کو تیار نہ تھے مگر اہل کوفہ اور اہل بصرہ گوفساد میں تو ان کے شریک تھے مگر مذہباً ان کے ہم خیال نہ تھے۔اور اہل کوفہ زبیر بن عوام اور اہل بصرہ طلحہ کی بیعت کو اپنی