خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 293
خلافة على منهاج النبوة ۲۹۳ جلد اول اس طرح جاتا رہے اور وہ دیکھتے تھے کہ ایسے لوگوں کو اگر جلد سزا نہ دی گئی تو اسلامی حکومت تہ و بالا ہو جائے گی۔مگر حضرت عثمان رحم مجسم تھے وہ چاہتے تھے کہ جس طرح ہو ان لوگوں کو ہدایت مل جائے اور یہ کفر پر نہ مریں۔پس آپ ڈھیل دیتے تھے اور ان کے صریح بغاوت کے اعمال کو محض ارادہ بغاوت سے تعبیر کر کے سزا کو پیچھے ڈالتے چلے جاتے تھے۔اس واقعہ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ ان لوگوں سے بالکل متنفر تھے کیونکہ اوّل تو خود وہ بیان کرتے ہیں کہ صرف تین اہلِ مدینہ ہمارے ساتھ ہیں اس سے زیادہ نہیں اگر اور صحابہ بھی ان کے ساتھ ہوتے تو وہ ان کا نام لیتے۔دوسرے صحابہ نے اپنے عمل سے یہ بھی ثابت کر دیا کہ وہ ان لوگوں کے افعال سے متنفر تھے اور ان کے اعمال کو ایسا خلاف شریعت سمجھتے تھے کہ سزا قتل سے کم ان کے نزدیک جائز ہی نہ تھی۔اگر صحابہ ان کے ساتھ ہوتے یا اہلِ مدینہ ان کے ہم خیال ہوتے تو کسی مزید حیلہ و بہا نہ کی ان لوگوں کو کچھ ضرورت ہی نہیں تھی۔اُسی وقت حضرت عثمان کو قتل کر دیتے اور ان کی جگہ کسی اور شخص کو خلافت کے لئے منتخب کر لیتے۔مگر ہم دیکھتے ہیں کہ بجائے اس کے کہ یہ لوگ حضرت عثمان کے قتل میں کامیاب ہوتے خود ان کی جانیں صحابہ کی شمشیر ہائے بر ہنہ سے خطرہ میں پڑ گئی تھیں۔اور صرف اسی رحیم وکریم وجود کی عنایت و مہربانی سے یہ لوگ بیچ کر واپس جاسکے جس کے قتل کا ارادہ ظاہر کرتے تھے اور جس کے خلاف اس قدر فساد برپا کر رہے تھے۔ان مفسدوں کی کینہ وری اور تقویٰ سے بُعد پر تعجب آتا ہے کہ اس واقعہ سے انہوں نے کچھ بھی فائدہ نہیں اُٹھایا۔ان کے ایک ایک اعتراض کا خوب جواب دیا گیا اور سب الزام غلط اور بے بنیاد ثابت کر دیئے گئے۔حضرت عثمان کا رحم و کرم انہوں نے دیکھا اور ہر ایک شخص کی جان اس پر گواہی دے رہی تھی کہ اس شخص کا مثیل اس وقت دنیا کے پردہ پر نہیں مل سکتا۔مگر بجائے اس کے کہ اپنے گنا ہوں سے تو بہ کرتے ، جفاؤں پر پشیمان ہوتے ، اپنی غلطیوں پر نادم ہوتے ، اپنی شرارتوں سے رجوع کرتے ، یہ لوگ غیظ و غضب کی آگ میں اور بھی زیادہ جلنے لگے اور اپنے لا جواب ہونے کو اپنی ذلت اور حضرت عثمان کے عفو کو اپنی حسن تدبیر کا نتیجہ سمجھتے ہوئے آئندہ کے لئے اپنی بقیہ تجویز کے پورا کرنے کی تدابیر سوچتے ہوئے واپس لوٹ گئے۔