خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 292 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 292

خلافة على منهاج النبوة ۲۹۲ جلد اول صدقہ کے اونٹوں کی زیادتی پر اس کو وسیع کیا ہے اور پھر رکھ میں جو زمین لگائی گئی ہے وہ کسی کا مال نہیں ہے اور میرا اس میں کوئی فائدہ نہیں میرے تو صرف دو اونٹ ہیں حالانکہ جب میں خلیفہ ہوا تھا اُس وقت میں سب عرب سے زیادہ مال دار تھا اب صرف دو اونٹ ہیں جو حج کے لئے رکھے ہوئے ہیں۔کیا یہ درست نہیں ؟ صحابہ کرام نے فرمایا ہاں درست ہے۔پھر فرمایا یہ کہتے ہیں کہ نو جوانوں کو حاکم بناتا ہے حالانکہ میں ایسے ہی لوگوں کو حاکم بنا تا ہوں جو نیک صفات نیک اطوار ہوتے ہیں اور مجھ سے پہلے بزرگوں نے میرے مقرر کردہ والیوں سے زیادہ نو عمر لوگوں کو حاکم مقرر کیا تھا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اسامہ بن زیڈ کے سردا را شکر مقرر کرنے پر اس سے زیادہ اعتراض کئے گئے تھے جواب مجھ پر کئے جاتے ہیں۔کیا یہ درست نہیں؟ صحابہ نے جواب دیا کہ ہاں درست ہے۔یہ لوگوں کے سامنے عیب تو بیان کرتے ہیں مگر اصل واقعات نہیں بیان کرتے۔غرض اسی طرح حضرت عثمان نے تمام اعتراضات ایک ایک کر کے بیان کئے اور ان کے جواب بیان کئے۔صحابہ برابر زور دیتے کہ ان کو قتل کر دیا جائے مگر حضرت عثمان نے ان کی یہ بات نہ مانی اور ان کو چھوڑ دیا۔طبری کہتا ہے کہ ابى الْمُسْلِمُونَ إِلَّا قَتْلَهُمْ وَأَبَى إِلَّا تَرَكَهُمُ۔یعنی باقی سب مسلمان تو ان لوگوں کے قتل کے سوا کسی بات پر راضی نہ ہوتے تھے مگر حضرت عثمان سزا دینے پر کسی طرح راضی نہ ہوتے تھے۔حضرت عثمان کا مفسدوں پر رحم کرنا اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ مفسد لوگ کس کس قسم کے فریب اور دھو کے سے کام کرتے تھے اور اُس زمانہ میں جب کہ پر لیس اور سامانِ سفر کا وہ انتظام نہ تھا جو آجکل ہے کیسا آسان تھا کہ یہ لوگ ناواقف لوگوں کو گمراہ کر دیں۔مگر اصل میں ان لوگوں کے پاس کوئی معقول وجہ فساد کی نہ تھی۔نہ حق ان کے ساتھ نہ یہ حق کے ساتھ تھے۔ان کی تمام کارروائیوں کا دارو مدار جھوٹ اور باطل پر تھا اور صرف حضرت عثمان کا رحم ان کو بچائے ہوئے تھا ورنہ مسلمان ان کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیتے۔وہ کبھی برداشت نہیں کر سکتے تھے کہ وہ امن و امان جو انہوں نے اپنی جانیں قربان کر کے حاصل کیا تھا چند شریروں کی شرارتوں سے