خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 13 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 13

خلافة على منهاج النبوة ۱۳ جلد اول کہ تک وہ جواب با ثواب نہ دے اس کی اطاعت فرض نہ سمجھی جاتی تھی لیکن میرے خیال میں یہ لوگ بہت دور چلے گئے ہیں انہیں ایسی مثالیں ڈھونڈنے کے لئے دور جانے کی ضرورت نہ تھی۔اگر اس قسم کے واقعات سے حریت ثابت ہوتی ہے تو یہ حریت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی ایک خاص گروہ میں پائی جاتی تھی۔چنانچہ حدیثوں سے ثابت ہے کہ بنو نضیر کو جب قتل کا حکم ہوا تو عبداللہ بن ابی بن سلول نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گلے میں پڑکا ڈال دیا اور کہا جب تک انہیں چھوڑو گے نہیں میں آپ کو نہ چھوڑوں گا۔جس پر آپ نے آخر ان کو چھوڑ دیا۔اسی طرح ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ مال غنیمت تقسیم کیا۔ایک شخص نے آپ پر اعتراض کیا اور کہا کہ آپ نے انصاف نہیں کیا جس کا جواب آپ نے یہ دیا کہ میں نے انصاف نہیں کیا تو اور کون کرے گا۔اب اگر اسی کا نام حریت ہے تو ان منافقین کو بھی خر اور خدام قومی کا خطاب دینا پڑے گا۔اصل بات یہ ہے کہ حضرت عمرؓ کے زمانہ میں فتوحات کی کثرت کی وجہ سے حدیث العہد مسلمان کثرت سے ہو گئے تھے اور وہ خلفاء کا ادب نہیں جانتے تھے اس لئے وہ اس قسم کے اعتراض کر دیتے تھے یہی لوگ جب اور بڑھے تو حضرت عثمان کے زمانہ میں سخت فتنہ کا موجب ہوئے اور آپ شہید ہوئے۔حضرت علیؓ کے زمانہ میں ان کی شرارت اور بھی بڑھ گئی۔اگر ان کی تقلید پر مسلمان اُتر آئے تو ان کا خدا ہی حافظ ہے۔اگر یہ اعتراضات کوئی اعلیٰ حریت کا نمونہ تھے تو کیا وجہ کہ صحابہ کہار کی طرف سے نہ ہوئے۔اگر یہ خوبی تھی تو سب سے زیادہ اس کے عامل عشرہ مبشرہ ہوتے مگر ان کی خاموشی ثابت کرتی ہے کہ وہ اس فعل کو جائز نہ سمجھتے تھے۔حضرت عمرؓ کا اپنا قول کچھ لوگ حضرت عمرؓ کا ایک قول نقل کرتے ہیں کہ تم میری خواہشوں کی پیروی نہ کرو۔مگر اس سے بھی پارلیمنٹ کا نتیجہ نکالنا غلط ہے کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اطاعت کے عہد میں یہ شرط کرتے تھے کہ امر بالمعروف میں میری پیروی کرنا۔کلے تو کیا اس سے یہ نتیجہ نکالا جا سکتا