خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 291
خلافة على منهاج النبوة ۲۹۱ جلد اول حضرت عثمان کا مفسدوں کو بلوانا جب سب لوگ جمع ہو گئے تو آپ نے ان لوگوں کو سب حال سنایا اور وہ دونوں مخبر بھی بطور گواہ کھڑے ہوئے اور گواہی دی۔اس پر صحابہ نے فتوی دیا کہ ان لوگوں کو قتل کر دیجئے کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو شخص ایسے وقت میں کہ ایک امام موجود ہوا اپنی اطاعت یا کسی اور اطاعت کے لئے لوگوں کو بلا وے اس پر خدا کی لعنت ہو۔تم ایسے شخص کو قتل کر دو خواہ کوئی ہو۔اور حضرت عمر کا قول یاد دلایا کہ میں تمہارے لئے کسی ایسے شخص کا قتل جائز نہیں سمجھتا جس میں میں شریک نہ ہوں یعنی سوائے حکومت کے اشارہ کے کسی شخص کا قتل جائز نہیں۔حضرت عثمان نے صحابہ کا یہ فتوی سن کر فرمایا کہ نہیں ہم ان کو معاف کریں گے اور ان کے عذروں کو قبول کریں گے اور اپنی ساری کوشش سے ان کو سمجھا دیں گے اور کسی شخص کی مخالفت نہیں کریں گے۔جب تک وہ کسی حد شرعی کو نہ توڑے یا اظہار کفر نہ کرے۔حضرت عثمان کا اتہامات سے بریت ثابت کرنا پھر فرمایا کہ ان لوگوں نے کچھ باتیں بیان کی ہیں جو تم کو بھی معلوم ہیں مگر ان کا خیال ہے کہ وہ ان باتوں کے متعلق مجھ سے بحث کریں تا کہ واپس جا کر کہہ سکیں کہ ہم نے ان امور کے متعلق عثمان سے بحث کی اور وہ ہار گئے۔یہ لوگ کہتے ہیں کہ اس نے سفر میں پوری نماز ادا کی حالانکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں نماز قصر کیا کرتے تھے۔مگر میں نے صرف مٹی میں پوری پڑھی ہے اور وہ بھی دو وجہ سے۔ایک تو یہ کہ میری وہاں جائداد تھی اور میں نے وہاں شادی کی ہوئی تھی۔دوسرے یہ کہ مجھے معلوم ہوا تھا کہ چاروں طرف سے لوگ ان دنوں حج کے لئے آئے ہیں ان میں سے ناواقف لوگ کہنے لگیں گے کہ خلیفہ تو دو ہی رکعت پڑھتا ہے دو ہی رکعت ہوں گی۔کیا یہ بات درست نہیں ؟ صحابہ نے جواب دیا کہ ہاں درست ہے۔آپ نے فرمایا دوسرا الزام یہ لگاتے ہیں کہ میں نے رکھ مقرر کرنے کی بدعت جاری کی ہے حالانکہ یہ الزام غلط ہے۔رکھ مجھ سے پہلے مقرر کی گئی تھی حضرت عمرؓ نے اس کی ابتداء کی تھی اور میں نے صرف