خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 288 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 288

خلافة على منهاج النبوة ۲۸۸ جلد اول کے متعلق اچھی نہ تھی۔سعید بن العاص کے آزاد کردہ غلام کو بلا وجہ قتل کر دینے سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ اپنے مقاصد کو پورا کرنے کے لئے ان لوگوں کو کسی مجرم کے ارتکاب سے اجتناب نہ تھا۔معلوم ہوتا ہے کہ اب یہ لوگ اس بات کو محسوس کرنے لگ گئے تھے کہ اگر چندے اور دیر ہوئی تو اُمت اسلامیہ پوری طرح ہمارے فتنہ کی اہمیت سے آگاہ ہو جائے گی اس لئے وہ جس طرح بھی ہو اپنے مدعا کو جلد سے جلد پورا کرنے کی فکر میں تھے۔مگر حضرت عثمان نے اپنی دانائی سے ایک دفعہ پھر ان کے عذرات کو توڑ دیا اور ابو موسیٰ اشعری کو والی مقرر کر کے فوراً ان لوگوں کو اطلاع دی۔سعید بن العاص کے واپس چلے جانے اوران کے ارادوں سے اہلِ مدینہ کو اطلاع دے دینے سے ان کی امیدوں پر پہلے ہی پانی پھر چکا تھا اور یک دم مدینہ پر قبضہ کر لینے کے منصوبے جو سوچ رہے تھے باطل ہو چکے تھے اور یہ لوگ واپس ہونے پر مجبور ہو چکے تھے۔اب ابو موسیٰ اشعری کے والی مقرر ہونے پر ان کے عذرات بالکل ہی ٹوٹ گئے کیونکہ یہ لوگ ایک مدت سے ان کی ولایت کے طالب تھے۔ابو موسیٰ اشعری کو جب معلوم ہوا کہ ان کو کوفہ کا والی مقرر کیا گیا ہے تو انہوں نے سب لوگوں کو جمع کیا اور کہا کہ اے لوگو! ایسے کاموں کیلئے پھر کبھی نہ نکلنا اور جماعت اور اطاعت کو اختیار کرو اور صبر سے کام لو اور جلد بازی سے بچو کیونکہ اب تم میں ایک امیر موجود ہے یعنی میں امیر مقرر ہوا ہوں۔اس پر ان لوگوں نے درخواست کی کہ آپ ہمیں نماز پڑھائیں تو انہوں نے اس سے انکار کر دیا اور فرمایا کہ نہیں یہ کبھی نہیں ہوسکتا۔جب تک تم لوگ حضرت عثمان کی کامل حاکم وقت کی اطاعت ضروری ہے اطاعت اور ان کے احکام کے قبول کرنے کا اقرار نہ کرو گے میں تمہارا امام جماعت نہیں بنوں گا۔اس پر ان لوگوں نے اس امر کا وعدہ کیا کہ وہ آئندہ پوری طرح اطاعت کریں گے اور ان کے احکام کو قبول کریں گے تب حضرت ابو موسیٰ اشعری نے اُن کو نماز پڑھائی۔اسی طرح حضرت ابو موسیٰ نے ان کو کہا کہ سنو ! میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے کہ جو کوئی ایسے وقت میں کہ