خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 287 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 287

خلافة على منهاج النبوة ۲۸۷ جلد اول رہنے دیں۔بلکہ اب باتوں سے صاف پتہ چلتا ہے کہ یہ لوگ اسلام سے بالکل کورے تھے۔اسلام جھوٹ کو جائز نہیں قرار دیتا اور فریب کا روادار نہیں۔اتہام لگا نا اسلام میں ایک سخت جرم ہے۔مگر یہ اسلام کی محبت ظاہر کرنے والے اور اس کے لئے غیرت کا اظہار کرنے والے جھوٹ بولتے ہیں۔اتہام لگاتے ہیں اور ان کاموں سے ان کو کائی عار نہیں معلوم ہوتی۔پس ایسے لوگوں کا حضرت عثمان کے خلاف شور مچانا ہی اس امر کا کافی ثبوت ہے کہ کسی حقیقی نقص کی وجہ سے یہ شورش نہیں تھی بلکہ اسلام سے دُوری اور بے دینی کا نتیجہ ہے۔دوسرا استنباط اس واقعہ سے یہ ہوتا ہے کہ ان لوگوں کے پاس حضرت عثمان اور ان کے عمال کے برخلاف ایک بھی واجبی شکایت نہ تھی کیونکہ اگر واقعہ میں کوئی شکایت ہوتی تو ان کو جھوٹ بنانے کی کیا ضرورت تھی۔جھوٹی شکایات کا بنانا ہی اس امر کا کافی ثبوت ہے کہ ان لوگوں کو حقیقی شکایات نہ تھیں۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ اشتر کے آنے سے پہلے جب یزید نے جلسہ کیا ہے تو اُس وقت صرف چند سپاہی لوگ ہی اس جلسہ میں شریک ہوئے تھے اور قعقاع کے روکنے پر یہ لوگ ڈر گئے اور جلسہ کرنا انہوں نے موقوف کر دیا تھا۔مگر اسی مہینہ کے اندراندر ہم دیکھتے ہیں کہ اشتر کے جھوٹ سے متاثر ہو کر کوفہ کے عامۃ الناس کا ایک کثیر گروہ ان لوگوں کے ساتھ مل کر سعید کو روکنے اور دوسرے والی کے طلب کرنے کے لئے کوفہ سے نکل پڑا۔یہ امر اس بات کی شہادت ہے کہ پہلے لوگ ان کی باتوں میں نہ آئے تھے کیونکہ ان کے پاس ان کو جوش دلانے کا کوئی ذریعہ نہ تھا۔اشتر نے جب ایسا ذریعہ ایجاد کیا جولوگوں کی غیرت کو بھڑ کانے والا تھا تو عامتہ الناس کا ایک حصہ فریب میں آ گیا اور ان کے ساتھ مل گیا۔اس فتنہ کے اظہار سے یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ ان لوگوں کی اصل مخالفت حضرت عثمان سے تھی نہ کہ ان کے اعمال سے۔کیونکہ ابتداء یہ لوگ آپ کے ہی خلاف جوش بھڑ کا نا چاہتے تھے مگر جب دیکھا کہ لوگ اس بات میں ان کے شریک نہیں ہو سکتے بلکہ ان کی مخالفت پر آمادہ ہو جاتے ہیں تب امراء کے خلاف جوش بھڑ کا نا شروع کر دیا۔ایک جماعت کثیر کے ساتھ مدینہ کی طرف رُخ کرنا بھی ثابت کرتا ہے کہ ان کی نیت حضرت عثمان