خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 286
خلافة على منهاج النبوة ۲۸۶ جلد اول بچوں کی طرح چیچنیں گے اور خواہش کریں گے کہ یہ زمانہ پھر لوٹ آوے مگر پھر خدا تعالیٰ قیامت تک یہ نعمت ان کی طرف نہ لوٹائے گا۔عوام الناس شہر کے باہر جمع ہوئے اور مدینہ کا رُخ کیا اور سعید بن العاص کا انتظار کرنے لگے۔جب وہ سامنے آئے تو ان سے کہا کہ آر واپس چلے جاویں ہمیں آپ کی ضرورت نہیں۔سعید نے کہا کہ یہ بھی کوئی دانائی ہے کہ اس قدر آدمی جمع ہو کر اس کام کے لئے باہر نکلے ہو۔ایک آدمی کے روکنے کے لئے ہزار آدمی کی کیا ضرورت تھی یہی کافی تھا کہ تم ایک آدمی خلیفہ کی طرف بھیج دیتے اور ایک آدمی میری طرف روانہ کر دیتے۔یہ کہہ کر انہوں نے اپنی سواری کو ایڑی لگائی اور مدینہ کی طرف واپس لوٹ گئے تا کہ حضرت عثمان کو خبر دار کر دیں۔اور یہ لوگ حیران رہ گئے اتنے میں ان کا ایک غلام نظر آیا اُس کو اِن لوگوں نے قتل کر دیا۔سعید بن العاص نے مدینہ پہنچ کر حضرت عثمان کو اس تمام فتنہ سے اطلاع دی۔آپ نے فرمایا کہ کیا وہ لوگ میرے خلاف اُٹھے ہیں ؟ سعید نے کہا کہ وہ ظاہر تو یہ کرتے ہیں کہ والی بدلا یا جاوے۔انہوں نے دریافت کیا کہ وہ کسے چاہتے ہیں؟ انہوں نے کہا ابو موسیٰ اشعری کو پسند کرتے ہیں۔حضرت عثمان نے فرمایا ہم نے ابو موسیٰ اشعری کا والی کوفہ مقرر ہونا ابوموسیٰ اشعری کو کوفہ کا والی مقرر کر دیا اور خدا کی قسم ہے ان لوگوں کو غذر کا کوئی موقع نہ دوں گا اور کوئی دلیل ان کے ہاتھوں میں نہیں آنے دوں گا اور ان کی باتوں پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم کے ماتحت صبر کروں گا یہاں تک کہ وہ وقت آجاوے جس کا یہ ارادہ کرتے ہیں یعنی عثمان کے علیحدہ کرنے کا۔اس فتنہ نے ظاہر کر دیا کہ یہ لوگ جھوٹ اور فریب سے کسی قسم کا پر ہیز نہیں رکھتے تھے۔مفسدوں کی سازشوں کا انکشاف مالک الاشتر کا جزیرہ سے بھاگے چلے آنا اور مدینہ سے آنے کا اظہار کرنا، سعید بن العاص پر جھوٹا الزام لگانا اور شرمناک باتیں اپنے پاس سے بنا کر ان کی طرف منسوب کرنا ایسے امور نہیں ہیں جو ان مفسدوں کے اصل ارادوں اور مخفی خواہشوں کو چھپا