خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 283 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 283

خلافة على منهاج النبوة ۲۸۳ جلد اول رسول کریم ﷺ نے جمع کیا ہے میں اُن کو پراگندہ کر دوں۔اس پر معاویہ رو پڑے اور عرض کی کہ اگر ان تدابیر میں سے جو آپ کی حفاظت کے لئے میں نے پیش کی ہیں آپ کوئی بھی قبول نہیں کرتے تو اتنا تو کیجئے کہ لوگوں میں اعلان کر دیجئے کہ اگر میری جان کو کوئی نقصان پہنچے تو معاویہ کو میرے قصاص کا حق ہوگا شاید لوگ اس سے خوف کھا کر شرارت سے باز رہیں۔حضرت عثمان نے جواب دیا کہ معاویہ جو ہونا ہے ہوکر رہے گا میں ایسا نہیں کرسکتا کیونکہ آپ کی طبیعت سخت ہے ایسا نہ ہو آپ مسلمانوں پر سختی کریں۔اس پر حضرت معاویہ روتے ہوئے آپ کے پاس سے اُٹھے اور کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ شاید یہ آخری ملاقات ہو اور باہر نکل کر صحابہ سے کہا کہ اسلام کا دارو مدار آپ لوگوں پر ہے حضرت عثمان اب بالکل ضعیف ہو گئے ہیں اور فتنہ بڑھ رہا ہے آپ لوگ ان کی نگہداشت رکھیں۔یہ کہہ کر معاویہ شام کی طرف روانہ ہو گئے۔صوبہ جات کے عمال کا اپنے اپنے علاقوں سے غائب رہنا ایسا موقع نہ تھا جسے عبداللہ بن سبا یو نہی جانے دیتا۔اُس نے فوراً چاروں طرف ڈاک دوڑا دی کہ یہ موقع ہے اس وقت ہمیں کچھ کرنا چاہئے ایک دن مقرر کر کے یکدم اپنے اپنے علاقہ کے امراء پر حملہ کر دیا جائے مگر ابھی مشورے ہی ہو رہے تھے کہ امراء واپس آگئے۔دوسری جگہوں کے سبائی تو مایوس ہو گئے مگر کوفہ کے سبائی ( یعنی عبداللہ بن سبا کے ساتھی ) جو پہلے بھی عملی فساد میں سب سے آگے قدم رکھنے کے عادی تھے انہوں نے اس موقع کو ہاتھ سے جانے نہ دیا۔یزید بن قیس نامی ایک شخص نے مسجد کوفہ میں جلسہ کیا اور اعلان کیا کہ اب حضرت عثمان کو خلافت سے علیحدہ کر دینا چاہئے۔قعقاع بن عمرو جو اس جگہ کی چھاؤنی کے افسر تھے انہوں نے سنا تو آ کر اُسے گرفتار کرنا چاہا۔وہ ان کے سامنے غذرکر نے لگا کہ میں تو اطاعت سے باہر نہیں ہوں۔ہم لوگ تو اس لئے جمع ہوئے تھے کہ سعید بن العاص کے متعلق جلسہ کر کے درخواست کریں کہ اس کو یہاں سے بُلوایا جائے اور کوئی اور افسر مقرر کیا جاوے۔اُنہوں نے کہا کہ اس کے لئے جلسوں کی ضرورت نہیں اپنی شکایات لکھ کر حضرت عثمان کی طرف بھیج دو۔وہ کسی اور شخص کو والی مقرر کر کے بھیج دیں گے اس میں مشکل کون سی ہے۔یہ بات