خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 277
خلافة على منهاج النبوة ۲۷۷ جلد اول خطوط باہر سے آتے ہیں اس کی تحقیق ہونی چاہیے۔حضرت عثمان نے اس پر ان سے مشورہ طلب کیا کہ تحقیق کس طرح کی جاوے اور ان کے مشورہ کے عین مطابق اسامہ بن زید کو بصرہ کی طرف محمد بن مسلم کو کوفہ کی طرف عبد اللہ بن عمر کو شام کی طرف عمار بن یا سر کو مصر کی طرف بھیجا کہ وہاں کے حالات کی تحقیق کر کے رپورٹ کریں کہ آیا واقعہ میں امراء رعیت پر ظلم کرتے ہیں اور تعدی سے کام لیتے ہیں اور لوگوں کے حقوق مارلیتے ہیں؟ اور ان چاروں کے علاوہ کچھ اور لوگ بھی متفرق بلا د کی طرف بھیجے تا کہ وہاں کے حالات سے اطلاع دیں گے۔تا یہ لوگ گئے اور تحقیق کے بعد واپس آکر ان سب نے رپورٹ کی کہ سب جگہ امن ہے اور مسلمان بالکل آزادی سے زندگی بسر کر رہے ہیں اور ان کے حقوق کو کوئی تلف نہیں کرتا اور حکام عدل وانصاف سے کام لے رہے ہیں۔مگر عمار بن یاسر نے دیر کی اور ان کی کوئی خبر نہ آئی۔عمار بن یاسر نے کیوں دیر کی اس کا ذکر تو پھر کروں گا پہلے میں اس تحقیقی وفد اور اس کی تحقیق کی اہمیت کے متعلق کچھ بیان کرنا چاہتا ہوں۔کیونکہ اس وفد کے حالات کو اچھی طرح سمجھ لینے سے اس فتنہ کی اصل حقیقت اچھی طرح واضح ہو جاتی ہے۔سب سے پہلی بات جو قابل غور ہے یہ ہے کہ اس وفد کے تینوں سرکردہ جولوٹ کر آئے اور جنہوں نے آکر رپورٹ دی وہ کس پایہ کے آدمی تھے۔کیونکہ تحقیق کرنے والے آدمیوں کی حیثیت سے اس تحقیق کی حیثیت معلوم ہوتی ہے۔اگر اس وفد میں ایسے لوگ بھیجے جاتے جو حضرت عثمان یا آپ کے خواب سے کوئی غرض رکھتے یا جن کی دینی و دنیاوی حیثیت اس قدر اعلیٰ اور ارفع نہ ہوتی کہ وہ حکام سے خوف کھاویں یا کوئی طمع رکھیں تو کہا جا سکتا تھا کہ یہ لوگ کسی لالچ یا خوف کے باعث حقیقت کے بیان کرنے سے اعراض کر گئے۔مگر ان لوگوں پر اس قسم کا اعتراض ہر گز نہیں پڑ سکتا اور ان لوگوں کو اس کام کے لئے منتخب کر کے حضرت عثمان نے اپنی نیک نیتی کا ایک بین ثبوت دے دیا ہے۔اسامہ جن کو بصرہ کی طرف بھیجا گیا تھا وہ شخص ہے کہ جو نہ صرف یہ کہ اول المؤمنین حضرت زیڈ کے لڑکے ہیں بلکہ رسول کریم ہے کے بڑے مقربین اور پیاروں میں سے ہیں اور آپ ہی وہ شخص ہیں جن کو رسول کریم ﷺ نے اس لشکر عظیم کی سپہ سالاری عطا کی جسے آپ اپنی مرض موت میں تیار صل الله