خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 267 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 267

خلافة على منهاج النبوة جلد اول نیچے کھسکا دی۔انہوں نے خیال کیا کہ اب بھید کھل گیا ہے اور چور پکڑا گیا۔جھٹ ایک شخص نے بلا بولے چالے ہاتھ اندر کیا اور وہ چیز نکال لی۔دیکھا تو ایک طبق تھا اور اس کے اندر والی کوفہ کا کھانا اور انگوروں کا ایک خوشہ پڑا تھا جسے اس نے صرف اس شرم سے چھپا دیا کہ ایسے بڑے مالدار صوبہ کے گورنر کے سامنے صرف یہی کھانا رکھا گیا تھا۔اس امر کو دیکھ کر لوگوں کے ہوش اُڑ گئے سب شرمندہ ہو کر اُلٹے پاؤں لوٹے اور ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے کہ بعض شریروں کے دھوکا میں آکر انہوں نے ایسا خطرناک جرم کیا اور شریعت کے احکام کو پس پشت ڈال دیا۔مگر ولید نے شرم سے اس بات کو دبا دیا اور حضرت عثمان کو اس امر کی خبر نہ کی۔لیکن یہ ان کا رحم جو ایک غیر مستحق قوم کے ساتھ کیا گیا تھا آخر ان کے لئے اور ان کے بعد ان کے قائمقام کے لئے نہایت مضر ثابت ہوا۔مفسدوں نے بجائے اس کے کہ اس رحم سے متاثر ہوتے اپنی ذلت کو اور بھی محسوس کیا اور پہلے سے بھی زیادہ جوش سے ولید کی تباہی کی تدابیر کرنی شروع کیں اور حضرت عثمان کے پاس وفد بن کر گئے کہ ولید کو موقوف کیا جائے۔لیکن انہوں نے بلا کسی جرم کے والی کو موقوف کرنے سے انکار کر دیا۔یہ لوگ واپس آئے تو اور دوسرے تمام ایسے لوگوں کو جمع کرنا شروع کیا جو سزا یافتہ تھے اور مل کر مشورہ کیا کہ جس طرح ہو جھوٹ سچ ولید کو ذلیل کیا جاوے۔ابوزینب اور ابومورع دو شخصوں نے اس بات کا ذمہ لیا کہ وہ کوئی تجویز کریں گے اور ولید کی مجلس میں جانا شروع کیا۔ایک دن موقع پا کر جب کہ کوئی نہ تھا اور ولید اپنے مردانہ میں جس کو زنانہ حصہ سے صرف ایک پردہ ڈال کر جدا کیا گیا تھا سو گئے۔ان دونوں نے اُن کی انگشتری آہستہ سے اُتار لی اور خود مدینہ کی طرف بھاگ نکلے کہ ہم نے ولید کو شراب میں مخمور دیکھا ہے اور اس کا ثبوت یہ انگوٹھی ہے جو ان کے ہاتھ سے حالت نشہ میں ہم نے اُتاری اور ان کو خبر نہ ہوئی۔حضرت عثمان نے ان سے دریافت کیا کہ کیا تم لوگوں کے سامنے انہوں نے شراب پی تھی ؟ انہوں نے اس بات کے اقرار کی تو جرات نہ کی کیونکہ سامنے شراب پینے سے ثابت ہوتا کہ وہ بھی ولید کے ساتھ شریک تھے اور یہ کہا کہ نہیں ہم نے ان کو شراب کی قے کرتے ہوئے دیکھا ہے۔انگوٹھی اس کا ثبوت موجود تھی اور دو گواہ حاضر تھے اور کچھ اور شریر بھی ان کی