خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 261
خلافة على منهاج النبوة جلد اوّل ایسے لوگ ملے جن میں یہ ٹھہر سکے اور نہ ایسے لوگ میسر آئے جن کو اپنا قائم مقام بنایا جاوے پس شام سے اس کو با حسرت و یاس آگے سفر کرنا پڑا اور اس نے مصر کا رُخ کیا مگر شام چھوڑنے سے پہلے اس نے ایک اور فتنہ کھڑا کر دیا۔عليم الله ابوذر غفاری رسول کریم ﷺ کے ابتدائی صحابہ میں سے ایک نہایت نیک اور متقی صحابی تھے۔جب سے ایمان لائے رسول کریم ﷺ کی محبت میں آگے ہی قدم بڑھاتے گئے اور ایک لمبا عرصہ صحبت میں رہے۔جیسا کہ ہر ایک شخص کا مذاق جُدا گا نہ ہوتا ہے رسول کریم کی ان نصائح کو سن کر کہ دنیا سے مومن کو علیحدہ رہنا چاہئے یہ اپنے مذاق کے مطابق مال جمع کرنے کو ناجائز سمجھتے تھے اور دولت سے نفرت کرتے تھے اور دوسرے لوگوں کو بھی سمجھاتے تھے کہ مال نہیں جمع کرنا چاہئے۔جو کچھ کسی کے پاس ہوا سے غرباء میں بانٹ دینا چاہئے مگر یہ عادت ان کی ہمیشہ سے تھی اور حضرت ابوبکر کے زمانے سے بھی جب کہ مسلمانوں میں دولت آئی وہ ایسا ہی کرتے تھے۔ابن سوداء جب شام سے گزر رہا تھا اس نے ان کی طبیعت میں دولت کے خلاف خاص جوش دیکھ کر یہ معلوم کر کے کہ یہ چاہتے ہیں کہ غرباء وامراء اپنے مال تقسیم کر دیں شام میں سے گزرتے ہوئے جہاں کہ اُس وقت حضرت ابوذر مقیم تھے ان سے ملاقات کی اور ان سے کہا کہ دیکھئے کیا غضب ہو رہا ہے معاویہ بیت المال کے اموال کو اللہ کا مال کہتا تھا حالانکہ بیت المال کے اموال کی کیا شرط ہے ہر ایک چیز اللہ تعالیٰ کی ہے۔پھر وہ خاص طور پر اس مال کو مال اللہ کیوں کہتا ہے صرف اس لئے کہ مسلمانوں کا حق جو اس مال میں ہے اس کو ضائع کر دے اور ان کا نام بیچ میں سے اُڑا کر آپ وہ مال کھا جاوے۔حضرت ابوذر تو آگے ہی اس تلقین میں لگے رہتے تھے کہ امراء کو چاہئے کہ سب مال غرباء میں تقسیم کر دیں کیونکہ مومن کے لئے آرام کی جگہ اگلا جہان ہی ہے اور اس شخص کی شرارت اور نیت سے آپ کو بالکل واقفیت نہ تھی پس آپ اس کے دھو کے میں آگئے اور خیال کیا کہ واقعہ میں بیت المال کے اموال کو مال اللہ کہنا درست نہیں اس میں اموال کے غصب ہو جانے کا خطرہ ہے۔ابن سوداء نے اس طرح حضرت معاویہؓ سے اس امر کا بدلہ لیا کہ کیوں انہوں نے اس کے ٹکنے کے لئے شام میں کوئی ٹھکانا نہیں بننے دیا۔