خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 260
خلافة على منهاج النبوة ۲۶۰ جلد اول سے بالکل علیحدہ تھا۔سیاسی مرکز اس وقت دار الخلافہ کے سوا بصرہ ، کوفہ، دمشق اور فسطاط تھے۔پہلے ان مقامات کا اس نے دورہ کیا اور یہ رویہ اختیار کیا کہ ایسے لوگوں کی تلاش کر کے جو سزا یافتہ تھے اور اس وجہ سے حکومت سے ناخوش تھے اُن سے ملتا اور اُنہی کے ہاں ٹھہرتا۔چنانچہ سب سے پہلے بصرہ گیا اور حکیم بن جبلہ ایک نظر بند ڈاکو کے پاس ٹھہرا اور اپنے ہم مذاق لوگوں کو جمع کرنا شروع کیا اور ان کی ایک مجلس بنائی۔چونکہ کام کی ابتدا تھی اور یہ آدمی ہوشیار تھا صاف صاف بات نہ کرتا بلکہ اشارہ کنایہ سے اُن کو فتنہ کی طرف بلا تا تھا اور جیسا کہ اس نے ہمیشہ اپنا وطیرہ رکھا ہے وعظ و پند کا سلسلہ بھی ساتھ جاری رکھتا تھا جس سے ان لوگوں کے دلوں میں اس کی عظمت پیدا ہو گئی اور وہ اس کی باتیں قبول کرنے لگے۔عبد اللہ بن عامر کو جو بصرہ کے والی تھے جب اس کا علم ہوا تو انہوں نے اس سے اس کا حال پوچھا اور اس کے آنے کی وجہ دریافت کی۔اس نے جواب میں کہلا بھیجا کہ میں اہلِ کتاب میں سے ایک شخص ہوں جسے اسلام کا اُنس ہو گیا ہے اور آپ کی حفاظت میں رہنا چاہتا ہوں۔عبد اللہ بن عامر کو چونکہ اصل حالات پر آگاہی حاصل ہو چکی تھی اُنہوں نے اس کے عذر کو قبول نہ کیا اور کہا کہ مجھے تمہارے متعلق جو حالات معلوم ہیں وہ ان کے خلاف ہیں اس لئے تم میرے علاقہ سے نکل جاؤ۔وہ بصرہ سے نکل کر کوفہ کی طرف چلا گیا مگر فساد بغاوت اور اسلام سے بیگانگی کا بیج ڈال گیا جو بعد میں بڑھ کر ایک بہت بڑا درخت ہو گیا۔میرے نزدیک یہ سب سے پہلی سیاسی غلطی ہوئی ہے اگر والی بصرہ بجائے اس کو جلا وطن کرنے کے قید کر دیتا اور اس پر الزام قائم کرتا تو شاید یہ فتنہ و ہیں دبا رہتا۔ابن سوداء تو اپنے گھر سے نکلا ہی اِس ارادے سے تھا کہ تمام عالم اسلام میں پھر کر فتنہ فساد کی آگ بھڑکائے۔اس کا بصرہ سے نکلنا تو اس کے مدعا کے عین مطابق تھا۔کوفہ میں پہنچ کر اس شخص نے پھر وہی بصرہ والی کارروائی شروع کی اور بالآخر وہاں سے بھی نکالا گیا لیکن یہاں بھی اپنی شرارت کا بیج بوتا گیا جو بعد میں بہت بڑا درخت بن گیا اور اس دفعہ اس کے نکالنے پر اُس پہلی سیاسی غلطی کا ارتکاب کیا گیا۔کوفہ سے نکل کر یہ شخص شام کو گیا مگر وہاں اس کو اپنے قدم جمانے کا کوئی موقع نہ ملا۔حضرت معاویہؓ نے وہاں اس عمدگی سے حکومت کا کام چلایا ہوا تھا کہ نہ تو اسے