خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 259 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 259

خلافة على منهاج النبوة ۲۵۹ جلد اول رض حضرت عمر نے عمال کی ڈیوڑھیاں بنانے سے بھی منع کر دیا تھا۔گو اس سے حضرت عمرہ کی غرض تو یہ تھی کہ لوگ آسانی سے اپنی شکایات گورنروں کے پاس پہنچا سکیں۔لیکن یہ حکم اُس وقت تک ہی دیا جا سکتا تھا جب تک امن انتہا تک نہ پہنچا ہوا ہوتا۔پھر اس واقعہ میں خصوصیت یہ بھی تھی کہ اس ڈا کہ میں بعض ذی مقدرت اور صاحب ثروت لوگوں کی اولا د بھی شامل تھی جو اپنے اپنے حلقے میں بارسوخ تھے۔پس یہ واردات معمولی واردات نہ تھی بلکہ کسی عظیم الشان انقلاب کی طرف اشارہ کرتی تھی جو اس کے سوا کیا ہوسکتا تھا کہ دین اسلام سے ناواقف لوگوں کے دلوں پر جو تصرف اسلام تھا اب اس کی گرفت کم ہو رہی تھی۔اور اب وہ پھراپنی عادات کی طرف لوٹ رہے تھے اور غریب ہی نہیں بلکہ امراء بھی اپنی پرانی عظمت کو قتل و غارت سے واپس لینے پر آمادہ ہو رہے تھے۔حضرت ابو شریح صحابی نے اس امر کو خوب سمجھا اور اُسی وقت اپنی سب جائداد و غیرہ بیچ کر اپنے اہل وعیال سمیت مدینہ کو واپس تشریف لے گئے اور کوفہ کی رہائش ترک کر دی۔ان کا اس واقعہ پر کوفہ کو ترک کر دینا اس امر کی کافی شہادت ہے کہ یہ منفر د مثال آئندہ کے خطرناک واقعات کی طرف اشارہ تھی۔اُنہی دنوں ایک اور فتنہ نے سر نکالنا شروع کیا۔عبد اللہ بن سبا ایک یہودی تھا جو اپنی ماں کی وجہ سے ابن السوداء کہلاتا تھا۔یمن کا رہنے والا اور نہایت بد باطن انسان تھا۔اسلام کی بڑھتی ہوئی ترقی کو دیکھ کر اس غرض سے مسلمان ہوا کہ کسی طرح مسلمانوں میں فتنہ ڈلوائے۔میرے نز دیک اُس زمانہ کے فتنے اسی مُفسد انسان کے ارد گرد گھومتے ہیں اور یہ ان کی روح رواں ہے۔شرارت کی طرف مائل ہو جانا اس کی جبلت میں داخل معلوم ہوتا ہے۔خفیہ منصوبہ کرنا اس کی عادت تھی اور اپنے مطلب کے آدمیوں کو تاڑ لینے میں اس کو خاص مہارت تھی۔ہر شخص سے اس کے مذاق کے مطابق بات کرتا تھا اور نیکی کے پردے میں بدی کی تحریک کرتا تھا اور اسی وجہ سے اچھے اچھے سنجیدہ آدمی اس کے دھو کے میں آجاتے تھے۔حضرت عثمان کی خلافت کے پہلے نصف میں مسلمان ہوا اور تمام بلا دا سلامیہ کا دورہ اس غرض سے کیا کہ ہر ایک جگہ کے حالات سے خود واقفیت پیدا کرے۔مدینہ منورہ میں تو اس کی دال نہ گل سکتی تھی مکہ مکرمہ اُس وقت سیاسیات