خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 255 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 255

خلافة على منهاج النبوة ۲۵۵ جلد اول اور کچھ پچھلا اثر لوگوں کے دلوں میں باقی رہا۔جب کسی قدرامن ہوا اور پچھلے جوش کا اثر بھی کم ہوا تب اس مذہبی کمزوری نے اپنا رنگ دکھایا اور دشمنانِ اسلام نے بھی اس موقع کو غنیمت سمجھا اور شرارت پر آمادہ ہو گئے۔غرض یہ فتنہ حضرت عثمان کے کسی عمل کا نتیجہ نہ تھا بلکہ یہ حالات کسی خلیفہ کے وقت میں بھی پیدا ہو جاتے فتنہ نمودار ہو جاتا اور حضرت عثمان کا صرف اِس قد رقصور ہے کہ وہ ایسے زمانہ میں مسندِ خلافت پر متمکن ہوئے جب ان فسادات کے پیدا کرنے میں ان کا اس سے زیادہ دخل نہ تھا جتنا کہ حضرت ابو بکر اور حضرت عمرؓ کا۔اور کون کہہ سکتا ہے کہ یہ فسادان دونوں بزرگوں کی کسی کمزوری کا نتیجہ تھا۔میں حیران ہوں کہ کس طرح بعض لوگ ان فسادات کو حضرت عثمان کی کسی کمزوری کا نتیجہ قرار دیتے ہیں حالانکہ حضرت عمرؓ جن کو حضرت عثمان کی خلافت کا خیال بھی نہیں ہوسکتا تھا انہوں نے اپنے زمانہ خلافت میں اس فساد کے بیج کو معلوم کر لیا تھا اور قریش کو اس سے بڑے زور دار الفاظ میں متنبہ کیا تھا۔چنانچہ لکھا ہے کہ حضرت عمرؓ صحابہ کبار کو باہر نہیں جانے دیا کرتے تھے اور جب کوئی آپ سے اجازت لیتا تو آپ فرماتے کہ کیا رسول کریم ﷺ کے ساتھ مل کر جو آپ لوگوں نے جہاد کیا ہے وہ کافی نہیں ہے۔آخر ایک دفعہ صحابہؓ نے شکایت کی تو آپ نے فرمایا کہ میں نے اسلام کو اس طرح چرایا ہے جس طرح اونٹ پر ایا جاتا ہے پہلے اونٹ پیدا ہوتا ہے پھر بٹھا بنتا ہے۔پھر دو دانت کا ہوتا ہے۔پھر چار دانت کا ہوتا ہے۔پھر چھ دانت کا ہوتا ہے۔پھر اس کی کچلیاں نکل آتی ہیں۔اب بتاؤ کہ جس کی کچلیاں نکل آویں اس کے لئے سوائے ضعف کے اور کس امر کا انتظار کیا جا سکتا ہے۔سنو ! اسلام اب اپنے کمال کی حد کو پہنچ گیا ہے۔قریش چاہتے ہیں کہ سب مال یہی لے جاویں اور دوسرے لوگ اس سے آپ کی دو غرضیں تھیں۔ایک تو یہ کہ مدینہ میں معلمین کی ایک جماعت موجود رہتی تھی اور دوسرے آپ کا خیال تھا کہ صحابہ کو چونکہ ان کے سابق بالا یمان ہونے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کی خدمات کی وجہ سے بیت المال سے خاص حصے ملتے ہیں اگر یہ لوگ جنگوں میں شامل ہوئے صلى الله تو ان کو اور حصے ملیں گے اور دوسرے لوگوں کو نا گوار ہوگا کہ سب مال انہی کو مل جاتا ہے۔