خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 256
خلافة على منهاج النبوة ۲۵۶ جلد اول محروم رہ جاویں۔سنو! جب تک عمر بن خطاب زندہ ہے وہ قریش کا گلا پکڑے رکھے گا تا کہ وہ فتنہ کی آگ میں نہ گر جاویں۔حضرت عمرؓ کے اس کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ ہ اپنے زمانہ میں ہی لوگوں میں صحابہؓ کے خلاف یہ خیالات موجزن دیکھتے تھے کہ ان کو حصہ زیادہ ملتا ہے اس لئے وہ سوائے چند ایسے صحابہ کے جن کے بغیر لشکروں کا کام نہیں چل سکتا تھا باقی صحابہ کو جہاد کیلئے نکلنے ہی نہیں دیتے تھے تا کہ دوہرے حصے ملنے سے لوگوں کو ابتلاء نہ آوے اور وہ یہ محسوس کرتے تھے کہ اسلام ترقی کے اعلیٰ نقطہ پر پہنچ گیا ہے اور اب اسکے بعد زوال کا ہی خطرہ ہوسکتا ہے نہ ترقی کی امید۔اس قدر بیان کر چکنے کے بعد اب میں واقعات کا وہ سلسلہ بیان کرتا ہوں جس سے حضرت عثمان کے وقت میں جو کچھ اختلافات ہوئے ان کی حقیقت ظاہر ہو جاتی ہے۔میں نے بیان کیا تھا کہ حضرت عثمان کی شروع خلافت میں چھ سال تک ہمیں کوئی فساد نظر نہیں آتا بلکہ معلوم ہوتا ہے کہ لوگ عام طور پر آپ سے خوش تھے بلکہ تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس عرصہ میں وہ حضرت عمر سے بھی زیادہ لوگوں کو محبوب تھے۔صرف محبوب ہی نہ تھے بلکہ لوگوں کے دلوں میں آپ کا رعب بھی تھا۔جیسا کہ اُس وقت کا شاعر اس امر کی شعروں میں شہادت دیتا ہے اور کہتا ہے کہ اے فاستقو ! عثمان کی حکومت میں لوگوں کا مال ٹوٹ کر نہ کھاؤ کیونکہ ابن عفان وہ ہے جس کا تجربہ تم لوگ کر چکے ہو۔وہ لٹیروں کو قرآن کے احکام کے ماتحت قتل کرتا ہے اور ہمیشہ سے اس قرآن کریم کے احکام کی حفاظت کرنے والا اور لوگوں کے اعضاء وجوارح پر اس کے احکام جاری کرنے والا ہے۔لیکن چھ سال کے بعد ساتویں سال ہمیں ایک تحریک نظر آتی ہے اور وہ تحریک حضرت عثمان کے خلاف نہیں بلکہ یعنی بحیثیت سابق ہونے کے بھی حصہ لیں اور اب بھی جہاد کر کے حصہ لیں تو دوسرے لوگ محروم رہ۔جائیں گے۔** لَا تَأْكُلُوا اَبَدًا جِيرَانَكُمْ سَرَفَاً اَهْلُ الدَّعَارَةِ فِي مُلْكِ ابْن عَفَّانَ إِنَّ ابْنَ عَفَّانَ الَّذِي جَرَّبْتُمْ فَطِمُ النُّصُوصِ بِحُكُم الْفُرْقَانِ مَازَالَ يَعْمَلُ بِالْكِتَبِ مُهَيْمِناً فِي كُلّ عُنُقِ مِنْهُمْ وَبَنَانِ