خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 253 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 253

خلافة على منهاج النبوة ۲۵۳ جلد اول دشمن کی کثیر التعداد با سامان فوج کے ساتھ برسر پر کا رتھی اُس وقت تک تو دشمنانِ اسلام یہ خیال کرتے رہے کہ مسلمانوں کی کامیابیاں عارضی ہیں اور عنقریب یہ لہر نیا رخ پھیرے گی اور یہ آندھی کی طرح اٹھنے والی قوم بگولے کی طرح اُڑ جائے گی۔مگر ان کی حیرت کی کچھ حد نہ رہی جب چند سال کے عرصہ میں مطلع صاف ہو گیا اور دنیا کے چاروں کونوں پر اسلامی پر چم لہرانے لگا۔یہ ایسی کامیابی تھی جس نے دشمن کی عقل مار دی اور وہ حیرت و استعجاب کے سمندر میں ڈوب گیا اور صحابہ اور ان کے صحبت یافتہ لوگ دشمنوں کی نظر میں انسانوں سے بالا ہستی نظر آنے لگے اور وہ تمام امید میں اپنے دل سے نکال بیٹھے۔مگر جب کچھ عرصہ فتوحات پر گزر گیا اور وہ حیرت و استعجاب جو ان کے دلوں میں پیدا ہو گیا تھا کم ہوا اور صحابہ کے ساتھ میل جول سے وہ پہلا خوف و خطر جا تا رہا تو پھر اسلام کا مقابلہ کرنے اور مذاہب باطلہ کو قائم کرنے کا خیال پیدا ہوا۔اسلام کی پاک تعلیم کا مقابلہ دلائل سے تو وہ نہ کر سکتے تھے ، حکومتیں مٹ چکی تھیں اور وہ ایک ہی حربہ جو حق کے مقابلہ میں چلا یا جاتا تھا یعنی جبر اور تعدی ٹوٹ چکا تھا۔اب ایک ہی صورت باقی تھی یعنی دوست بن کر دشمن کا کام کیا جائے اور اتفاق پیدا کر کے اختلاف کی صورت کی جائے۔پس بعض شقی القلب لوگوں نے جو اسلام کے نور کو دیکھ کر اندھے ہو رہے تھے اسلام کو ظاہر میں قبول کیا اور مسلمان ہو کر اسلام کو تباہ کرنے کی نیت کی۔چونکہ اسلام کی ترقی خلافت سے وابستہ تھی اور گلہ بان کی موجودگی میں بھیڑ یا حملہ نہ کر سکا اس لئے یہ تجویز کی گئی کہ خلافت کو مٹا دیا جاوے اور اس سلک اتحاد کو توڑ دیا جاوے جس میں تمام عالم کے مسلمان پر وئے ہوئے ہیں تا کہ اتحاد کی برکتوں سے مسلمان محروم ہو جائیں اور نگران کی عدم موجودگی سے فائدہ اُٹھا کر مذاہب باطلہ پھر اپنی ترقی کے لئے کوئی راستہ نکال سکیں اور دجل و فریب کے ظاہر ہونے کا کوئی خطرہ نہ رہے۔یہ وہ چار بواعث ہیں جو میرے نزدیک اس فتنہ عظیم کے برپا کرنے کا موجب ہوئے۔جس نے حضرت عثمانؓ کے وقت میں ملت اسلام کی بنیادوں کو ہلا دیا اور بعض وقت اس پر ایسے آئے کہ دشمن اس بات پر اپنے دل میں خوش ہونے لگا کہ یہ قصر عالی شان اب اپنی چھنتوں اور دیواروں سمیت زمین کے ساتھ آلگے گا اور ہمیشہ کیلئے اس دین کا خاتمہ ہو جائے گا جس