خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 252
خلافة على منهاج النبوة ۲۵۲ جلد اول ان لوگوں کی تربیت اور تعلیم کی ضرورت محسوس نہ ہوئی۔جو کچھ یہ مسلمانوں کو کرتے دیکھتے تھے کرتے تھے اور ہر ایک حکم کو بخوشی بجا لاتے تھے۔مگر جوں جوں ابتدائی جوش کم ہوتا گیا جن لوگوں کو تربیت روحانی حاصل کرنے کا موقع نہ ملا تھا ان کو احکام اسلام کی بجا آوری با رمعلوم ہونے لگی اور نئے جوش کے ٹھنڈا ہوتے ہی پرانی عادات نے پھر زور کرنا شروع کیا۔غلطیاں ہر ایک انسان سے ہو جاتی ہیں اور سیکھتے سیکھتے انسان سیکھتا ہے۔اگر ان لوگوں کو کچھ حاصل کرنے کا خیال ہوتا تو کچھ عرصہ تک ٹھوکریں کھاتے ہوئے آخر سیکھ جاتے۔مگر یا تو رسول کریم ہے کے وقت یہ حال تھا کہ ایک شخص سے جب ایک جرم ہو گیا تو با وجود رسول کریم ہی ہے کے اشارہ فرمانے کے کہ جب خدا تعالیٰ ستاری کرے تو کوئی خود کیوں اپنی فضیحت کرے اس نے اپنے قصور کا خود اقرار کیا اور سنگسار ہونے سے نہ ڈرا سکہ یا اب حد و دشریعت کو قائم رکھنے کے لئے اگر چھوٹی سے چھوٹی سزا بھی دی جاتی تو ان لوگوں کو نا پسند ہوتی۔پس بوجہ اسلام کے دل میں نہ داخل ہونے کے شریعت کو توڑنے سے کچھ لوگ باز نہ رہتے اور جب حدودِ شریعت کو قائم کیا جاتا تو ناراض ہوتے اور خلیفہ اور اس کے عمال پر اعتراض کرتے اور ان کے خلاف اپنے دل میں کینہ رکھتے اور اس انتظام کو سرے سے ہی اُکھاڑ پھینک دینے کے منصوبے کرتے۔چوتھا سبب میرے نزدیک اس فتنہ کا یہ تھا کہ اسلام کی ترقی ایسے غیر معمولی طور پر ہوئی ہے کہ اس کے دشمن اس کا اندازہ شروع میں کر ہی نہ سکے۔مکہ والے بھی اپنی طاقت کے گھمنڈ میں اور رسول کریم ﷺ کے ضعف کے خیال میں ہی بیٹھے تھے کہ مکہ فتح ہو گیا اور اسلام جزیرہ عرب میں پھیل گیا۔اسلام کی اس بڑھنے والی طاقت کو قیصر روم اور کسری ایران ایسی حقارت آمیز اور تماش میں نگاہوں سے دیکھ رہے تھے جیسے کہ ایک جابر پہلوان ایک گھٹنوں صلى الله کے بل رینگنے والے بچہ کی کھڑے ہونے کے لئے پہلی کوشش کو دیکھتا ہے۔سلطنت ایران اور دولت یونان ضربت محمدی کے ایک ہی صدمہ سے پاش پاش ہو گئیں۔جب تک مسلمان ان جابر حکومتوں کا مقابلہ کر رہے تھے جنہوں نے سینکڑوں ہزاروں سال سے بنی نوع انسان کو غلام بنا رکھا تھا اور اس کی قلیل التعداد بے سامان فوج