خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 251
خلافة على منهاج النبوة ۲۵۱ جلد اول دوسری دفعہ ان خیالات کی دبی ہوئی آگ نے ایک شعلہ حضرت عمرؓ کے وقت میں مارا جب کہ ایک شخص نے برسر مجلس کھڑے ہو کر حضرت عمر جیسے بے نفس انسان اور اُمتِ محمدیہ کے اموال کے محافظ خلیفہ پر اعتراض کیا کہ یہ گرتا آپ نے کہاں سے بنوایا ہے۔مگر ان دونوں وقتوں میں اس فتنہ نے کوئی خوفناک صورت اختیار نہیں کی کیونکہ اس وقت تک اس کے نشو ونما پانے کیلئے کوئی تیار شدہ زمین نہ تھی اور نہ موسم ہی موافق تھا۔ہاں حضرت عثمان کے وقت میں یہ دونوں باتیں میسر آگئیں اور یہ پودا جسے میں اختلال کا پودا کہوں گا ایک نہایت مضبوط تنے پر کھڑا ہو گیا اور حضرت علی کے وقت میں تو اس نے ایسی نشو و نما پائی کہ قریب تھا کہ تمام اقطار عالم میں اس کی شاخیں اپنا سایہ ڈالنے لگیں۔مگر حضرت علیؓ نے وقت پر اس کی مضرت کو پہچانا اور ایک کاری ہاتھ کے ساتھ اسے کاٹ کر گرا دیا اور اگر وہ بالکل اسے مٹانہ سکے تو کم از کم اس کے دائرہ اثر کو انہوں نے بہت محدود کر دیا۔تیسرا سبب میرے نزدیک یہ ہے کہ اسلام کی نورانی شعاعوں کے اثر سے بہت سے لوگوں نے اپنی زندگیوں میں ایک تغیر عظیم پیدا کر دیا تھا مگر اس اثر سے وہ کمی کسی طرح پوری نہیں ہو سکتی تھی جو ہمیشہ دینی و دنیاوی تعلیم کے حصول کے لئے کسی معلم کا انسان کومحتاج بناتی ہے۔رسول کریم ﷺ کے وقت میں جب فوج در فوج آدمی داخلِ اسلام ہوئے تب بھی یہی خطرہ دامن گیر تھا۔مگر آپ سے خدا تعالیٰ کا خاص وعدہ تھا کہ اس ترقی کے زمانہ میں اسلام لانے والے لوگوں کو بداثر سے بچایا جائیگا۔چنانچہ آپ کی وفات کے بعد گو ایک سخت لہرارتداد کی پیدا ہوئی مگر فوراً دب گئی اور لوگوں کو حقیقت اسلام معلوم ہوگئی۔مگر آپ کے بعد ایران وشام اور مصر کی فتوحات کے بعد اسلام اور دیگر مذاہب کے میل وملاپ سے جو فتوحات روحانی اسلام کو حاصل ہوئیں وہی اس کے انتظام سیاسی کے اختلال کا باعث ہو گئیں۔کروڑوں کروڑ آدمی اسلام کے اندر داخل ہوئے اور اس کی شاندار تعلیم کو دیکھ کر ایسے فدائی ہوئے کہ اس کے لئے جانیں دینے کے لئے تیار ہو گئے۔مگر اس قدر تعداد نو مسلموں کی بڑھ گئی کہ ان کی تعلیم کا کوئی ایسا انتظام نہ ہو سکا جو طمانیت بخش ہوتا۔جیسا کہ قاعدہ ہے اور انسانی دماغ کے بار یک مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ابتدائی جوش کے ماتحت