خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 244
خلافة على منهاج النبوة ۲۴۴ جلد اول اختلافات کا ظہور خلیفہ ثالث یہ بات تمام تعلیم یافتہ مسلمانوں پر روشن ہوگی کہ مسلمانوں میں اختلاف کے آثار نمایاں کے زمانہ میں کیوں ہوا؟ طور پر خلیفہ ثالث کے عہد میں ظاہر ہوئے تھے۔ان سے پہلے حضرت ابوبکر اور حضرت عمرؓ کے عہد میں اختلاف نے کبھی سنجیدہ صورت اختیار نہیں کی۔اور مسلمانوں کا کلمہ ایسا متحد تھا کہ دوست و دشمن سب اس کے افتراق کو ایک غیر ممکن امر خیال کرتے تھے اور اسی وجہ سے عموماً لوگ اس اختلاف کو خلیفہ ثالث کی کمزوری کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔حالانکہ جیسا میں آگے چل کر بتاؤں گا واقعہ یوں نہیں۔حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ابتدائی حالات حضرت عمر کے بعد تمام صحابہ کی نظر مسندِ خلافت پر بیٹھنے کے لئے حضرت عثمان پر پڑی اور آپ ا کا بر صحابہ کے مشورہ سے اس کام کے لئے منتخب کئے گئے۔آپ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے داماد تھے اور یکے بعد دیگرے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دو بیٹیاں آپ سے بیاہی گئیں۔اور جب دوسری لڑکی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی فوت ہوئی تو آپ نے فرمایا کہ اگر میری کوئی اور بیٹی ہوتی تو میں اسے بھی حضرت عثمان سے بیاہ دیتا ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت کی نظر میں آپ کو خاص قدر و منزلت حاصل تھی۔آپ اہل مکہ کی نظر میں نہایت ممتاز حیثیت رکھتے اور اُس وقت ملک عرب کے حالات کے مطابق مالدار آدمی تھے۔حضرت ابوبکر نے اسلام اختیار کرنے کے بعد جن خاص خاص لوگوں کو تبلیغ اسلام کے لئے منتخب کیا ان میں ایک حضرت عثمان بھی تھے۔اور آپ پر حضرت ابو بکر کا گمان غلط نہیں گیا بلکہ تھوڑے دنوں کی تبلیغ سے ہی آپ نے اسلام قبول کر لیا اور اس طرح اَلسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ میں یعنی اسلام میں داخل ہونے والے اس پیشرو گروہ میں شامل ہوئے جن کی قرآن کریم نہایت قابل رشک الفاظ میں تعریف فرماتا ہے۔عرب میں انہیں جس قدر عزت اور توقیر حاصل تھی اس کا کسی قدر پتہ اس واقعہ سے لگ سکتا ہے کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک رؤیا کی بناء پر مکہ تشریف لائے اور اہلِ مکہ نے بغض و کینہ سے اندھے ہو کر آپ کو عمرہ کرنے کی اجازت نہ دی