خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 243 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 243

خلافة على منهاج النبوة ۲۴۳ جلد اول فرماتے ہیں کہ درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے۔اور ان روایات کے بموجب اسلام کے درخت کے پھل ایسے کڑوے ثابت ہوتے ہیں کہ کچھ خرچ کرنا تو الگ رہا مفت بھی اس کے لینے کے لئے کوئی تیار نہ ہوگا۔مگر کیا کوئی شخص جس نے رسول کریم ﷺ کی قوت قدسیہ کا ذرا بھی مطالعہ کیا ہو اس امر کے تسلیم کرنے کیلئے تیار ہوسکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔یہ خیال کرنا بھی بعید از عقل ہے کہ جن لوگوں نے آنحضرت ﷺ کی صحبت پائی آپ کے جلیل القدر اور جاں نثار صحابہ تھے اور آپ سے نہایت قریبی رشتے اور تعلق رکھتے تھے وہ بھی اور ان کے علاوہ تمام دیگر صحابہ بھی بلا استثناء چند ہی سال میں ایسے بگڑ گئے کہ صرف ذاتی اغراض کے لئے نہ کہ کسی مذہبی اختلاف کی بناء پر ایسے اختلافات میں پڑ گئے کہ اس کے صدمہ سے اسلام کی جڑ ہل گئی۔مگر افسوس کہ گو مسلمان لفظ تو نہیں کہتے کہ صحابہ نے اسلام کو تباہ و برباد کرنے کے لئے فتنے کھڑے کئے لیکن انہوں نے ایسے لوگوں کی روایتوں کو سچا سمجھ کر جنہوں نے اسلام اچھی طرح قبول نہیں کیا تھا اور صرف زبانی اقرار اسلام کیا تھا اور پھر ایسے لوگوں کی تحقیقات پر اعتبار کر کے جو اسلام کے سخت دشمن اور اس کے مٹانے کے درپے ہیں ایسی باتوں کو تسلیم کر رکھا ہے جن کے تسلیم کرنے سے لازمی نتیجہ نکلتا ہے کہ صحابہ کی جماعت نَعُوذُ بالله تقویٰ اور دیانت سے بالکل خالی تھی ہیں میں اپنے بیان میں اس امر کا لحاظ رکھوں گا کہ تاریخیں وغیرہ نہ آویں تا کہ سمجھنے میں وقت نہ ہو اور مضمون پیچ دار نہ ہو جائے۔کیونکہ میرے اس لیکچر کی اصل غرض ابتدائے اسلام کے بعض اہم واقعات سے کالجوں کے طلباء کو واقف کرنا ہے۔اور اسی وجہ سے ہی عربی عبارات کے بیان کرنے سے بھی حتی الوسع اجتناب کروں گا اور واقعات کو حکایت کے طور پر بیان کروں گا۔اس مضمون پر برائے اشاعت نظر ثانی کرتے وقت میں نے حاشیہ پر بعض ضروری تاریخی حوالجات دے دیئے ہیں اور مطالعہ کنندہ کتاب کو زیادہ مشقت سے بچانے کے لئے صرف تاریخ طبری کے حوالوں پر اکتفاء کی ہے۔اِلَّا مَا شَاءَ اللهُ - مِنْهُ۔