خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 8
خلافة على منهاج النبوة Δ جلد اول وعد الله الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِّن بَعْدِ خَوْفِهِمْ آمَنَّا ، يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا، وَمَنْ كَفَرَ بعد ذلك فأولئِكَ هُمُ الفسقون ہے اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا ہے تم میں سے مؤمنوں کو اور نیک عمل کرنے والوں کو کہ انہیں زمین میں خلیفہ بنادے گا۔اسی طرح جس طرح ان سے پہلی قوموں کو خلیفہ بنا دیا اور ان کا وہ دین جسے خدا نے ان کے لئے پسند کیا ہے قائم کر دے گا اور ان کے خوفوں کو امن سے بدل دے گا۔وہ میری عبادت کریں گے کسی کو شریک نہ بنا ئیں گے اور جو اُس کے بعد کفر کرے گا تو ایسے لوگ بدعمل ہو جائیں گے۔اس آیت سے کئی باتیں معلوم ہوتی ہیں ایک تو یہ کہ اسلام میں خلفاء ہوں گے۔دینی و دنیوی دونوں قسم کے ان کے مشرب و طریق کو خدا تعالیٰ دنیا میں پھیلائے گا۔ان کی حفاظت کرے گا۔ان کے منکر گنہگار ہوں گے اور ان کے انکار کی وجہ سے ان کے دل ایسے سیاہ ہو جائیں گے کہ وہ بد کا رہو جائیں گے۔حدیث میں خلافت کا ذکر جس طرح قرآن شریف میں خلافت کا ذکر ہے اسی طرح احادیث سے بھی مسئلہ خلافت ثابت ہے۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرا دل چاہتا ہے حضرت ابوبکر اور عبد الرحمن کو بلا کر لکھوا دوں ( یعنی خلافت ) اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ نے حضرت عثمان سے فرمایا کہ خدا تعالیٰ تجھے ایک گر تہ پہنائے گا ( قمیص خلافت ) اور لوگ تجھ سے وہ چھینا چاہیں گے تو اُتار یو نہیں لے پھر آپ کی ایک رویا بھی ہے کہ ابوبکر نے ایک دو ڈول کھینچے اور عمر نے جب کھینچا تو چولہ بن گیا اور ایک رؤیا ہے جس میں آپ نے فرمایا ہے کہ پہلے خلافت حضرت ابوبکر کے ہاتھوں میں جائے گی، پھر حضرت عمر کے اور حضرت عمر اس کا انتظام خوب عمدگی کے ساتھ کریں گے۔ان سب حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود خلافت کا فیصلہ کر دیا تھا اور حضرت ابو بکر، عمر، علی رضی اللہ عنہم کی خلافت پیشگوئیوں کے ماتحت