خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 240
خلافة على منهاج النبوة ۲۴۰ جلد اوّل روانگی ملتوی کر کے اس موقع پر آپ لوگوں کے سامنے بعض تاریخی مضامین پر اپنی تحقیقات کا بیان کرنا منظور کر لیا۔مضمون کی اہمیت مجھ سے کہا گیا تھا کہ میں بعض اسلامی تاریخی مسائل پر کچھ بیان کروں اور گواسلامی تاریخ میں سب سے اہم وہ زمانہ ہے جس میں رسول کریم ﷺ نے خدا تعالیٰ کے حکم کے ماتحت دنیا میں اسلام کا اعلان کیا اور تئیس سالہ محنت شاقہ سے لاکھوں آدمیوں کے دلوں میں اس کا نقش ثبت کیا اور ہزاروں آدمیوں کی ایک ایسی جماعت پیدا کر دی جس کا فکر ، قول اور فعل اسلام ہی ہو گیا۔مگر چونکہ اسلام میں صلى الله تفرقہ کی بنیاد رسول کریم ﷺ کی وفات کے پندرہ سال بعد پڑی ہے اور اس وقت کے بعد مسلمانوں میں شقاق کا شگاف وسیع ہی ہوتا چلا گیا ہے اور اسی زمانہ کی تاریخ نہایت تاریک پردوں میں چھپی ہوئی ہے اور اسلام کے دشمنوں کے نزدیک اسلام پر ایک بدنما ہے اور اس کے دوستوں کے لئے بھی ایک سر چکرا دینے والا سوال ہے اور بہت کم ہیں جنہوں نے اس زمانہ کی تاریخ کی دلدل سے صحیح وسلامت پار نکلنا چاہا ہو اور وہ اپنے مدعا میں کامیاب ہو سکے ہوں اس لئے میں نے یہی پسند کیا کہ آج آپ لوگوں کے سامنے اسی کے متعلق کچھ بیان کروں۔اسلام کا شاندار ماضی آپ لوگ جانتے ہوں گے کہ جو کام اللہ تعالی نے میرے سپرد کیا ہوا ہے ( یعنی جماعت احمدیہ کی تربیت اور اس کی ضروریات کا انصرام اور اس کی ترقی کی فکر ) وہ اپنی نوعیت میں بہت سی شقوں پر حاوی ہے۔پس اس کے انصرام کے لئے ان خاص تاریخی مضامین کا جو زمانہ خلافت سے متعلق ہیں علم رکھنا میرے لئے ایک نہایت ضروری امر ہے اور اس لئے با وجو د کم فرصتی کے مجھے اس زمانہ کی تاریخ کو زیر مطالعہ رکھنا پڑتا ہے اور گو ہمارا اصل کام مذہب کی تحقیق و تدقیق ہے مگر اس مطالعہ کے باعث ابتدائے اسلام کی تاریخ کے بعض ایسے پوشیدہ امر مجھ پر خدا تعالیٰ کے فضل سے ظاہر ہوئے ہیں جن سے اس زمانہ کے اکثر لوگ ناواقف ہیں۔اور اس ناواقفیت کے باعث بعض مسلمان تو اپنے مذہب سے بیزار ہورہے ہیں اور ان کو اپنا ماضی ایسا بھیانک