خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 241
خلافة على منهاج النبوة ۲۴۱ جلد اول نظر آ رہا ہے کہ اس کی موجودگی میں وہ کسی شاندار مستقبل کی امید نہیں رکھ سکتے۔مگر ان کی یہ مایوسی غلط اور ان کے ایسے خیالات نادرست ہیں اور صرف اس امر کا نتیجہ ہیں کہ ان کو صحیح اسلامی تاریخ کا علم نہیں ورنہ اسلام کا ماضی ایسا شاندار اور بے عیب ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحبت یافتہ سب کے سب ایسے اعلیٰ درجہ کے با اخلاق لوگ ہیں کہ ان کی نظیر دنیا کی کسی قوم میں نہیں ملتی خواہ وہ کسی نبی کے صحبت یافتہ کیوں نہ ہوں۔اور صرف رسول کریم ﷺ کے صحبت یافتہ لوگ ہی ہیں جن کی نسبت کہا جاسکتا ہے کہ انہوں نے اپنے استاد اور آقا کے نقش قدم پر چل کر ایسی روحانیت پیدا کر لی تھی کہ سیاسیات کی خطرناک اُلجھن میں پڑ کر بھی انہوں نے تقویٰ اور دیانت کو ہاتھ سے جانے نہیں دیا اور سلطنت کے بار کے نیچے بھی ان کی کمر ایسی ہی ایستادہ رہی جیسی کہ اُس وقت جب قوت لایموت“ کے وہ محتاج تھے اور ان کا فرش مسجد نبوی کی بے فرش زمین تھی اور ان کا تکیہ ان کا اپنا ہا تھ ، اُن کا شغل رسول کریم ﷺ کا کلام مبارک سنا تھا اور ان کی تفریح خدائے واحد کی عبادت تھی۔اسلام کے اولین فدائی حضرت غالباً آپ لوگ سمجھ گئے ہوں گے کہ میرا ارادہ اس وقت حضرت عثمان اور حضرت عثمان وحضرت علی رضی اللہ عنہما علی کی خلافت کے متعلق کچھ بیان کرنے کا ہے۔یہ دونوں بزرگ اسلام کے اولین فدائیوں میں سے ہیں اور ان کے ساتھی بھی اسلام کے بہترین ثمرات میں سے ہیں۔ان کی دیانت اور ان کے تقویٰ پر الزام کا آنا در حقیقت اسلام کی طرف عار کا منسوب ہونا ہے۔اور جو مسلمان بھی سچے دل سے اس حقیقت پر غور کرے گا اُس کو اس نتیجہ پر پہنچنا پڑے گا کہ ان لوگوں کا وجود درحقیقت تمام قسم کی دھڑا بندیوں سے ارفع اور بالا ہے اور یہ بات بے دلیل نہیں بلکہ تاریخ کے اوراق اُس شخص کے لئے جو آنکھ کھول کر ان پر نظر ڈالتا ہے اس امر پر شاہد ہیں۔غیر مسلم مؤرخین کی غلط بیانیاں جہاں تک میری تحقیق ہے ان بزرگوں اور ان کے دوستوں کے متعلق جو کچھ بیان کیا جاتا ہے وہ اسلام کے دشمنوں کی کارروائی ہے اور گو صحابہ کے بعد بعض مسلمان کہلانے والوں نے بھی