خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 236
خلافة على منهاج النبوة ۲۳۶ جلد اول بھائی بہنوں کی خبر گیری کرو۔اگر کوئی بیمار ہے تو اُس کی دوائی لا دو۔اگر کوئی مبلغ با ہر گیا ہے تو اُس کے گھر والوں کو سو دا وغیرہ لا دو۔کسی بھائی یا بہن کو اور تکلیف ہے تو اس کو رفع کرو۔کم از کم مجھے اطلاع تو دو تا کہ میں خود انتظام کروں۔ابھی کچھ دن ہوئے صوفی تصور حسین صاحب کی اہلیہ بیمار ہوئیں ان کے بچے چھوٹے تھے مجھے معلوم ہوا کہ دو دن سے ان کی کسی نے ایسی خبر گیری نہیں کی جیسی کہ چاہئے تھی۔فورا میں نے اس کا مناسب انتظام کیا لیکن افسوس ہے آپ لوگوں نے کیوں شکایت کا موقع پیدا ہونے دیا اور خود یہ کام سرانجام نہ دیا۔کم فرصتی کا عذر فضول ہے کہ کاموں کی کثرت اور چیز ہے اور کاموں کا اہم ہونا اور بات ہے۔دیکھو ایک شخص سے کہا جائے کہ فلاں مکان میں چار پائیاں بچھا دینا، یہ سو دابازار سے لا نا ، کپڑے دھوپ میں رکھنا وغیرہ۔اور دوسرے سے کہا جائے کہ جنگل سے شیر ما رلا نا تو پہلا شخص نہیں کہہ سکتا کہ مجھے اتنے کام ہیں اور دوسرے کا صرف ایک کام۔کیونکہ آخری کام کے مقابلہ میں وہ پہلے بہت سے کام کچھ بھی حقیقت نہیں رکھتے۔پھر کاموں کی نوعیت میں بھی حقیقت حال سے بے خبر اعتراض کرتے ہیں فرق ہوتا ہے۔جن کا تعلق اس زمانہ میں جسمانی حالت سے تھا اس لئے اس کے واسطے جفا کشی ، محنت اور خشن پوشی کی ضرورت تھی اور چاہئے تھا کہ غذا بھی سادہ ہو بلکہ اکثر بھو کے رہنے کی عادت ہو۔مگر تصنیف کا تعلق دماغ سے ہے۔اس کیلئے نرم لباس، نرم غذا چاہئے اور اپنے آپ کو حتی الوسع تنہائی میں رکھنا کیونکہ تصنیف کا اثر اعصاب پر پڑتا ہے۔اس نکتہ کو نہ سمجھنے کی وجہ سے لوگوں نے حضرت عیسی علیہ السلام پر اعتراض کیا کہ وہ روزے کم رکھتا ہے اور کھاؤ پیو ہے۔نادان یہ نہیں سمجھتے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا زمانہ نہ تھا۔وہ تو ایک علمی زمانہ تھا۔ان کو مخالفین کے مقابل پر تقریریں کرنی پڑتی تھیں اور یہود کی کتب کا مطالعہ۔موقع موقع کی بات ہوتی ہے روزے رکھنا بڑے ثواب کا کام ہے مگر حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن فرمایا کہ آج روزہ نہ رکھنے والے روزہ رکھنے والوں سے اجر میں بڑھ گئے۔کیونکہ بے روزوں نے خیمے وغیرہ لگائے ، کھانے کا بندو بست کیا اسباب رکھوایا اور روزہ دار بے چارے