خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 229
خلافة على منهاج النبوة ۲۲۹ جلد اوّل جماعت فتنہ پردازوں کی حضرت علی کا ساتھ چھوڑ کر الگ ہو گئی اور اس نے یہ شور شروع کر دیا کہ خلیفہ کا وجود ہی خلاف شریعت ہے احکام تو خدا تعالیٰ کی طرف سے مقررہی ہیں باقی رہا انتظام مملکت سو یہ ایک انجمن کے سپر د ہونا چاہیے کسی ایک شخص کے ہاتھ میں نہیں ہونا چاہیے اور یہ لوگ خوارج کہلائے۔اب بھی جو لوگ ہمارے مخالف ہیں ان کا یہی دعویٰ ہے اور ان کے وہی الفاظ ہیں جو خوارج کے تھے اور یہ بھی ہماری صداقت کا ایک ثبوت ہے کہ ان لوگوں کو اس جماعت سے مشابہت حاصل ہے جسے گل مسلمان بالا تفاق کراہت کی نگاہ سے دیکھتے چلے آئے ہیں اور ان کی غلطی کے معترف ہیں۔ابھی معاملات پوری طرح سمجھے نہ تھے کہ خوارج کے گروہ نے یہ مشورہ کیا کہ اس فتنہ کو اس طرح دور کرو کہ جس قدر بڑے آدمی ہیں اُن کو قتل کر دو۔چنانچہ ان کے دلیر یہ اقرار کر کے نکلے کہ ان میں سے ایک حضرت علیؓ کو ، ایک حضرت معاویہؓ کو اور ایک عمر بن العاص کو ایک ہی دن اور ایک ہی وقت میں قتل کر دے گا۔جو حضرت معاویہ کی طرف گیا تھا اُس نے تو حضرت معاویہ پر حملہ کیا لیکن اس کی تلوار ٹھیک نہیں لگی اور حضرت معاویہ صرف معمولی زخمی ہوئے۔وہ شخص پکڑا گیا اور بعد ازاں قتل کیا گیا۔جو عمرو بن العاص کو مارنے گیا تھا وہ بھی ناکام رہا کیونکہ وہ بوجہ بیماری نماز کے لئے نہ آئے جو شخص ان کو نماز پڑھانے کے لئے آیا تھا اُس نے اُس کو مار دیا اور خود پکڑا گیا اور بعد ازاں مارا گیا۔جو شخص حضرت علی کو مارنے کیلئے نکلا تھا اُس نے جب کہ آپ صبح کی نماز کے لئے کھڑے ہونے لگے آپ پر حملہ کیا اور آپ خطرناک طور پر زخمی ہوئے آپ پر حملہ کرتے وقت اُس شخص نے یہ الفاظ کہے کہ اے علی ! تیرا حق نہیں کہ تیری ہر بات مانی جایا کرے بلکہ یہ حق صرف اللہ کو ہے (اب بھی غیر مبائعین ہم پر شرک کا الزام لگاتے ہیں ) ان سب واقعات کو معلوم کر کے آپ لوگوں نے معلوم کر لیا ہوگا کہ یہ سب فتنہ انہی لوگوں کا اُٹھایا ہوا تھا جو مدینہ میں نہیں آئے تھے اور حضرت عثمان سے واقفیت نہ رکھتے تھے آپ کے حالات نہ جانتے تھے ، آپ کے اخلاص ، آپ کے تقویٰ اور آپ کی طہارت سے نا واقف تھے ، آپ کی دیانت اور امانت سے بے خبر تھے چونکہ ان کو شریروں کی طرف سے یہ بتایا گیا کہ خلیفہ خائن ہے ، بددیانت ہے ، فضول خرچ ہے ، وغیرہ وغیرہ اس لئے وہ گھر بیٹھے ہی ان باتوں کو درست مان گئے اور فتنہ کے پھیلانے کا موجب ہوئے۔لیکن اگر وہ مدینہ میں