خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 226
خلافة على منهاج النبوة ۲۲۶ جلد اول کرتے تھے اس اختلاف کی وجہ سے طلحہ اور زبیر نے یہ سمجھا کہ حضرت علیؓ اپنے عہد سے پھرتے ہیں۔چونکہ اُنہوں نے ایک شرط پر بیعت کی تھی اور وہ شرط ان کے خیال میں حضرت علیؓ نے پوری نہ کی تھی اس لئے وہ شرعاً اپنے آپ کو بیعت سے آزاد خیال کرتے تھے۔جب حضرت عائشہ کا اعلان ان کو پہنچا تو وہ بھی ان کے ساتھ جا ملے اور سب مل کر بصرہ کی طرف چلے گئے۔بصرہ میں گورنر نے لوگوں کو آپ کے ساتھ ملنے سے باز رکھا لیکن جب لوگوں کو معلوم ہوا کہ طلحہ اور زبیر نے صرف اکراہ سے اور ایک شرط سے مقید کر کے حضرت علی کی بیعت کی ہے تو اکثر لوگ آپ کے ساتھ شامل ہو گئے۔جب حضرت علیؓ کو اس لشکر کا علم ہوا تو آپ نے بھی ایک لشکر تیار کیا اور بصرہ کی طرف روانہ ہوئے۔بصرہ پہنچ کر آپ نے ایک آدمی کو حضرت عائشہ اور طلحہ اور زبیر کی طرف بھیجا۔وہ آدمی پہلے حضرت عائشہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور دریافت کیا کہ آپ کا ارادہ کیا ہے؟ اُنہوں نے جواب دیا کہ ہمارا ارادہ صرف اصلاح ہے۔اس کے بعد اس شخص نے طلحہ اور زبیر کو بھی بلوایا اور اُن سے پوچھا کہ آپ بھی اسی لئے جنگ پر آمادہ ہوئے ہیں؟ اُنہوں نے کہا کہ ہاں۔اس شخص نے جواب دیا کہ اگر آپ کا منشاء اصلاح ہے تو اس کا یہ طریق نہیں جو آپ نے اختیار کیا ہے اس کا نتیجہ تو فساد ہے اس وقت ملک کی ایسی حالت ہے کہ اگر ایک شخص کو آپ قتل کریں گے تو ہزار اُس کی تائید میں کھڑے ہو جائیں گے اور ان کا مقابلہ کریں گے تو اور بھی زیادہ لوگ ان کی مدد کے لئے کھڑے ہو جائیں گے۔پس اصلاح یہ ہے کہ پہلے ملک کو اتحاد کی رستی میں باندھا جائے پھر شریروں کو سزا دی جائے ورنہ اس بدامنی میں کسی کو سزا دینا ملک میں اور فتنہ ڈلوانا ہے۔حکومت پہلے قائم ہو جائے تو وہ سزا دے گی۔یہ بات سن کر اُنہوں نے کہا کہ اگر حضرت علیؓ کا یہی عندیہ ہے تو وہ آ جائیں ہم ان کے ساتھ ملنے کو تیار ہیں۔اس پر اس شخص نے حضرت علیؓ کو اطلاع دی اور طرفین کے قائم مقام ایک دوسرے کو ملے اور فیصلہ ہو گیا کہ جنگ کرنا درست نہیں صلح ہونی چاہیے۔جب یہ خبر سبائیوں ( یعنی جو عبد اللہ بن سبا کی جماعت کے لوگ اور قاتلین حضرت عثمان تھے ) کو پہنچی تو ان کو سخت گھبراہٹ ہوئی اور خفیہ خفیہ ان کی ایک جماعت مشورہ کے لئے اکٹھی