خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 227 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 227

خلافة على منهاج النبوة ۲۲۷ جلد اول ہوئی۔اُنہوں نے مشورہ کے بعد فیصلہ کیا کہ مسلمانوں میں صلح ہو جانی ہمارے لئے سخت مضر ہوگی کیونکہ اُسی وقت تک ہم حضرت عثمان کے قتل کی سزا سے بچ سکتے ہیں جب تک کہ مسلمان آپس میں لڑتے رہیں گے۔اگر صلح ہو گئی اور امن ہو گیا تو ہمارا ٹھکا نہ کہیں نہیں اس لئے جس طرح سے ہو صلح نہ ہونے دو۔اتنے میں حضرت علی بھی پہنچ گئے اور آپ کے پہنچنے کے دوسرے دن آپ کی اور حضرت زبیر کی ملاقات ہوئی۔وقت ملاقات حضرت علیؓ نے فرمایا کہ آپ نے میرے لڑنے کے لئے تو لشکر تیار کیا ہے مگر کیا خدا کے حضور میں پیش کرنے کے لئے کوئی عذر بھی تیار کیا ہے؟ آپ لوگ کیوں اپنے ہاتھوں سے اس اسلام کے تباہ کرنے کے درپے ہوئے ہیں جس کی خدمت سخت جانکا ہیوں سے کی تھی۔کیا میں آپ لوگوں کا بھائی نہیں ؟ پھر کیا وجہ ہے کہ پہلے تو ایک دوسرے کا خون حرام سمجھا جا تا تھا لیکن اب حلال ہو گیا۔اگر کوئی نئی بات پیدا ہوئی ہوتی تو بھی بات تھی جب کوئی نئی بات پیدا نہیں ہوئی تو پھر یہ مقابلہ کیوں ہے؟ اس پر حضرت طلحہ نے کہا وہ بھی حضرت زبیر کے ساتھ تھے کہ آپ نے حضرت عثمان کے قتل پر لوگوں کو اُکسایا ہے۔حضرت علیؓ نے فرمایا کہ میں حضرت عثمان کے قتل میں شریک ہونے والوں پر لعنت کرتا ہوں۔پھر حضرت علیؓ نے حضرت زبیر سے کہا کہ کیا تم کو یاد نہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ خدا کی قسم ! تو علی سے جنگ کرے گا اور تو ظالم ہوگا۔یہ سن کر حضرت زبیر اپنے لشکر کی طرف واپس کو ٹے اور قسم کھائی کہ وہ حضرت علی سے ہرگز جنگ نہیں کریں گے اور اقرار کیا کہ اُنہوں نے اجتہاد میں غلطی کی۔جب یہ خبر لشکر میں پھیلی تو سب کو اطمینان ہو گیا کہ اب جنگ نہ ہوگی بلکہ صلح ہو جائے گی لیکن مفسدوں کو سخت گھبراہٹ ہونے لگی اور جب رات ہوئی تو انہوں نے صلح کو روکنے کے لئے یہ تدبیر کی کہ ان میں سے جو حضرت علیؓ کے ساتھ تھے اُنہوں نے حضرت عائشہؓ اور حضرت طلحہ و زبیر کے لشکر پر رات کے وقت شب خون مار دیا۔اور جو اُن کے لشکر میں تھے اُنہوں نے حضرت علیؓ کے لشکر پر شب خون مار دیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ایک شور پڑ گیا اور ہر فریق نے خیال کیا کہ دوسرے فریق نے اس سے دھوکا کیا حالانکہ اصل میں یہ صرف سبائیوں کا ایک منصوبہ تھا۔جب جنگ شروع ہو گئی تو حضرت علیؓ نے آواز دی کہ کوئی شخص حضرت عائشہ کو