خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 223
خلافة على منهاج النبوة ۲۲۳ جلد اول کہنے پر ہم لوگ گھروں کو چلے جائیں تو خدا تعالیٰ کے سامنے کیا جواب دیں گے کہ تم میں حفاظت کی طاقت تھی پھر تم نے حفاظت کیوں نہ کی اور ہم میں اتنی تو طاقت ہے کہ اس وقت تک کہ ہم سب مر جائیں ان کو آپ تک نہ پہنچنے دیں ( ان صحابہ میں حضرت امام حسن بھی شامل تھے ) جب مفسدوں نے دیکھا کہ ادھر تو صحابہ کسی طرح ان کو حضرت عثمان کے گھر میں داخل ہونے نہیں دیتے اور اُدھر مکہ کے حاجیوں کی واپسی شروع ہوگئی ہے بلکہ بعض بہادر اپنی سواریوں کو دوڑا کر مدینہ میں پہنچ بھی گئے ہیں اور شام و بصرہ کی فوجیں بھی مدینہ کے بالکل قریب پہنچ گئی ہیں بلکہ ایک دن کے فاصلہ پر رہ گئی ہیں تو وہ سخت گھبرائے اور کہا کہ یا آج ان کا کسی طرح فیصلہ کر دو ورنہ ہلاکت کے لئے تیار ہو جاؤ۔چنانچہ چند آدمیوں نے یہ کام اپنے ذمہ لیا اور بے خبری میں ایک طرف سے گو دکر آپ کے قتل کے لئے گھر میں داخل ہوئے۔ان میں محمد بن ابی بکر بھی تھے جنہوں نے سب سے آگے بڑھ کر آپ کی داڑھی پکڑی۔اس پر حضرت عثمان نے فرمایا کہ اگر تیرا باپ ہوتا تو ایسا نہ کرتا اور کچھ ایسی پر رعب نگاہوں سے دیکھا کہ ان کا تمام بدن کانپنے لگ گیا اور وہ اُسی وقت واپس لوٹ گئے۔باقی آدمیوں نے آپ کو پہلے مارنا شروع کیا اس کے بعد تلوار مار کر آپ کو قتل کر دیا۔آپ کی بیوی نے آپ کو بچانا چاہا لیکن ان کا ہاتھ کٹ گیا جس وقت آپ کو قتل کیا گیا اُس وقت آپ قرآن پڑھ رہے تھے اور آپ نے ان قاتلوں کو دیکھ کر قرآن کی تلاوت نہیں چھوڑی بلکہ اسی میں مشغول رہے چنانچہ ایک خبیث نے پیر مار کر آپ کے آگے سے قرآن کریم کو پرے پھینک دیا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ شقی دین سے کیا تعلق رکھتے تھے۔آپ کے قتل کرنے کے بعد ایک شور پڑ گیا اور باغیوں نے اعلان کر دیا کہ آپ کے گھر میں جو کچھ ہو کوٹ لو۔چنانچہ آپ کا سب مال و اسباب کوٹ لیا گیا لیکن اسی پر بس نہیں کی گئی بلکہ آپ کے گھر کے ٹوٹنے کے بعد وہ لوگ بیت المال کی طرف گئے اور خزانہ میں جس قدر روپیہ تھا سب کو ٹ لیا جس سے ان لوگوں کی اصل نیست معلوم ہوتی ہے یا تو یہ لوگ حضرت عثمان پر الزام لگاتے تھے اور ان کے معزول کرنے کی یہی وجہ بتاتے تھے کہ وہ خزانہ کے روپیہ کو بُری طرح استعمال کرتے ہیں اور اپنے رشتہ داروں کو دے دیتے ہیں یا خود سرکاری خزانہ کے