خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 220 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 220

خلافة على منهاج النبوة ۲۲۰ جلد اول اجازت نہ دی جاتی حتی کہ حضرت عثمان اور آپ کے گھر والوں کے لئے پانی تک لے جانے کی اجازت نہ تھی اور پیاس کی شدت سے وہ سخت تکلیف اُٹھاتے تھے۔جب نوبت یہاں تک پہنچ گئی تو حضرت عثمان نے اپنی دیوار پر چڑھ کر اپنے ایک ہمسایہ کے لڑکے کو حضرت علیؓ، حضرت طلحہ اور حضرت زبیر اور اُمہات المؤمنین کے پاس بھیجا کہ ہمارے لئے پانی کا کوئی بند و بست کرو۔اس پر حضرت علی فوراً پانی کی ایک مشک لے کر گئے لیکن ہر چند انہوں نے کوشش کی مفسدوں نے ان کو پانی پہنچانے یا اندر جانے کی اجازت نہ دی۔اس پر آپ نے فرمایا کہ یہ کیا طریق ہے نہ مسلمانوں کا طریق ہے نہ کفار کا۔رومی اور ایرانی بھی اپنے دشمن کا کھانا اور پینا بند نہیں کرتے۔تم لوگوں کو خوف خدا بھی اس حرکت سے نہیں روکتا ! اُنہوں نے کہا کہ خواہ کچھ ہو اس کے پاس ایک قطرہ پانی نہیں پہنچنے دیں گے جس پر حضرت علیؓ نے اپنی پگڑی حضرت عثمانؓ کے گھر میں پھینک دی تا اُن کو معلوم ہو جائے کہ آپ نے تو بہت کوشش کی لیکن لوگوں نے آپ تک ان کو پہنچنے نہ دیا۔اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ حضرت اُمّ حبیبہ کو جب علم ہوا تو آپ بھی خلیفہ کی مدد کے لئے گھر سے تشریف لائیں لیکن ان بد بختوں نے آپ سے وہ سلوک کیا کہ جو ہمیشہ کیلئے ان کے لئے باعث لعنت رہے گا۔اوّل تو اُنہوں نے اس فیچر کو بد کا دیا جس پر آپ سوار تھیں اور جب آپ نے کہا کہ حضرت عثمان کے پاس بنو امیہ کے یتامیٰ اور بیواؤں کے اموال کے کاغذات ہیں ان کی وفات کے ساتھ ہی یتامی اور بیواؤں کے مال ضائع ہو جائیں گے اس کے لئے تو مجھے جانے دو کہ کوئی انتظام کروں تو اُنہوں نے کہا تو جھوٹ بولتی ہے (نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ ذَلِكَ ) اور پھر تلوار مار کر آپ کی خچر کا تنگ تو ڑ دیا اور قریب تھا کہ وہ اس انبوہ میں گر کر شہید ہو جاتیں اور بے پر دہ ہوتیں کہ بعض بچے مسلمانوں نے آگے بڑھ کر آپ کو سنبھالا اور حفاظت سے آپ کے گھر پہنچا دیا۔اس خبر کے پہنچتے ہی حضرت عائشہ حج کے لئے چل پڑیں۔اور جب بعض لوگوں نے آپ کو روکا کہ آپ کے یہاں رہنے سے شاید فساد میں کچھ کمی ہو تو اُنہوں نے کہا کہ اگر میرے بس میں ہوتا تو میں ہر طرح اس فساد کو روکتی۔لیکن کیا تم چاہتے ہو کہ میرے ساتھ بھی وہی سلوک ہو جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دوسری بیوی ام حبیبہ کے ساتھ ہوا ہے