خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 219
خلافة على منهاج النبوة ۲۱۹ جلد اول دنوں میں کہ حضرت عثمان خود نماز پڑھاتے تھے آخری جمعہ میں آپ نماز پڑھانے لگے تو ایک خبیث نے آپ کو گالی دے کر کہا کہ اُتر منبر سے ! اور آپ کے ہاتھ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عصا تھا وہ چھین لیا اور اسے اپنے گھٹنے پر رکھ کر تو ڑ دیا لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کو یہ سزا دی کہ اس کے گھٹنے میں کیڑے پڑ گئے۔اس کے بعد حضرت عثمان صرف ایک یا دو دفعہ نکلے۔پھر نکلنے کی ان باغیوں نے اجازت نہ دی۔ان محاصرہ کے دنوں میں حضرت عثمان نے ایک شخص کو بلو ایا اور پوچھا کہ یہ لوگ کیا چاہتے ہیں ؟ اس نے کہا کہ دو باتوں میں سے ایک چاہتے ہیں یا تو یہ کہ آپ خلافت ترک کر دیں اور یا یہ کہ آپ پر جو الزام لگائے جاتے ہیں ان کے بدلہ میں آپ سے قصاص لیا جائے۔اگر ان دونوں باتوں میں سے آپ ایک بھی نہ مانیں گے تو یہ لوگ آپ کو قتل کر دیں گے۔آپ نے پوچھا کہ کیا کوئی اور تجویز نہیں ہوسکتی ؟ اس نے کہا نہیں اور کوئی صورت نہیں ہو سکتی۔اس پر آپ نے فرمایا کہ خلافت تو میں چھوڑ نہیں سکتا یہ قمیض خدا تعالیٰ نے مجھے پہنائی ہے اسے تو میں ہر گز نہیں اُتاروں گا۔مجھے اپنا قتل ہونا اس بات سے زیادہ پسند ہے کہ میں خدا تعالیٰ کی پہنائی ہوئی قمیض کو اُتار دوں اور مسلمانوں کو آپس میں لڑنے مرنے دوں۔باقی رہا قصاص کا معاملہ سو مجھ سے پہلے دونوں خلیفوں سے کبھی ان کے کاموں کے بدلہ میں قصاص نہیں لیا گیا۔باقی رہا یہ کہ وہ مجھے قتل کر دیں گے سو یا د رکھو کہ اگر وہ مجھے قتل کر دیں گے تو اس دن کے بعد سب مسلمان کبھی ایک مسجد میں نما زنہیں ادا کریں گے اور کبھی سب مسلمان مل کر ایک دشمن کا مقابلہ نہیں کر سکیں گے اور نہ مسلمانوں کا اتحاد قائم رہے گا ( چنانچہ تیرہ سو سال کے واقعات اس قول کی صداقت پر شہادت دے رہے ہیں )۔اس کے بعد مفسدوں نے حکم دے دیا کہ کوئی شخص نہ حضرت عثمان کے پاس جا سکے نہ اپنے مکان سے باہر نکل سکے۔چنانچہ جب یہ حکم دیا تو اُس وقت ابن عباس اندر تھے جب اُنہوں نے نکالنا چاہا تو لوگوں نے ان کو باہر نکلنے کی اجازت نہ دی۔لیکن اتنے عرصہ میں محمد بن ابی بکر آگئے اور اُنہوں نے ان لوگوں سے کہا کہ ان کو جانے دو۔جس پر اُنہوں نے انہیں نکلنے کی اجازت دے دی۔اس کے بعد محاصرہ سخت ہو گیا اور کسی شخص کو اندر جانے کی