خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 213
خلافة على منهاج النبوة ۲۱۳ جلد اول بھی جانتے ہو لیکن فرق یہ ہے کہ یہ ان کے ذریعہ سے لوگوں کو میرے خلاف بھڑ کا نا چاہتے ہیں۔مثلاً کہتے ہیں کہ اس نے سفر میں نماز قصر نہیں کی حالانکہ پہلے ایسا نہ ہوتا تھا۔سنو میں نے نماز ایسے شہر میں پوری پڑھی ہے جس میں کہ میری بیوی تھی کیا اسی طرح نہیں ہوا ؟ سب صحابہ نے کہا کہ ہاں یہی بات ہے۔پھر فرمایا یہ لوگ یہ اعتراض بھی کرتے ہیں کہ اس نے رکھ بنائی ہے حالانکہ اس سے پہلے رکھ نہ بنائی جاتی تھی مگر یہ بات بھی غلط ہے حضرت عمرؓ کے وقت سے رکھ کا انتظام ہے۔ہاں جب صدقات کے اونٹ زیادہ ہو گئے تو میں نے رکھ کو اور بڑھا دیا اور یہ دستور بھی حضرت عمر کے وقت سے چلا آیا ہے۔باقی میرے اپنے پاس تو صرف دو اونٹ ہیں اور بھیڑ اور بکری بالکل نہیں۔حالانکہ جب میں خلیفہ ہوا تھا تو میں تمام عرب میں سب سے زیادہ اونٹوں اور بکریوں والا تھا لیکن آج میرے پاس نہ بکری ہے نہ اونٹ سوائے ان دو اونٹوں کہ یہ بھی صرف حج کے لئے رکھے ہوئے ہیں۔کیا یہ بات درست نہیں ؟ سب صحابہؓ نے عرض کیا کہ بالکل درست ہے۔پھر فرمایا کہ یہ لوگ یہ اعتراض بھی کرتے ہیں کہ قرآن کئی صورتوں میں تھا میں نے اسے ایک صورت پر لکھوا دیا ہے۔سنو! قرآن ایک ہے اور ایک خدا کی طرف سے آیا ہے اور اس بات میں میں سب صحابہؓ کی رائے کا تابع ہوں۔میں نے کوئی بات نہیں کی کیا یہ بات درست نہیں ؟ سب صحابہؓ نے عرض کیا کہ بالکل درست ہے اور یہ لوگ واجب القتل ہیں ان کو قتل کیا جائے۔غرض اسی طرح حضرت عثمان نے ان کے سب اعتراضوں کا جواب دیا اور صحابہؓ نے ان کی تصدیق کی۔اس کے بعد بہت بحث ہوئی۔صحابہ اصرار کرتے تھے کہ ان شریروں کو قتل کیا جائے لیکن حضرت عثمان نے اس مشورہ کو قبول نہ کیا اور ان کو معاف کر دیا اور وہ لوگ واپس چلے گئے۔مدینہ سے واپسی پر ان مفسدوں نے سوچا کہ اب دیر کرنی مناسب نہیں۔بات بہت بڑھ چکی ہے اور لوگ جوں جوں اصل واقعات سے آگاہ ہوں گے ہماری جماعت کمزور ہوتی جائے گی۔چنانچہ اُنہوں نے فوراً خطوط لکھنے شروع کر دیے کہ اب کے حج کے موسم میں ہمارے سب ہم خیال مل کر مدینہ کی طرف چلیں لیکن ظاہر یہ کریں کہ ہم حج کیلئے جاتے ہیں۔چنانچہ ایک جماعت مصر سے ، ایک کوفہ سے، ایک بصرہ سے ارادہ حج ظاہر کرتی ہوئی