خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 212 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 212

خلافة على منهاج النبوة ۲۱۲ جلد اول والوں میں سے بھی کوئی تمہارے ساتھ ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ صرف تین آدمی مدینہ والوں سے ہمارے ساتھ ہیں۔ان دونوں نے کہا کہ کیا صرف تین آدمی تمہارے ساتھ ہیں ؟ انہوں نے کہا ہاں صرف تین ہمارے ساتھ ہیں (اب بھی موجودہ فتنہ میں قادیان کے صرف تین چار آدمی ہی پیغام والوں کے ساتھ ملے ہیں یا دو تین ایسے آدمی جو مؤلفتہ القلوب میں داخل تھے اور جو بعد میں پیغام والوں سے بھی جُدا ہو گئے ) اُنہوں نے دریافت کیا کہ پھر تم کیا کرو گے؟ ان مفسدوں نے جواب دیا کہ ہمارا ارادہ ہے کہ ہم حضرت عثمان سے وہ باتیں دریافت کریں گے جو پہلے ہم نے ان کے خلاف لوگوں کے دلوں میں بٹھائی ہوئی ہیں۔پھر ہم واپس جا کر تمام ملکوں میں مشہور کریں گے کہ ان باتوں کے متعلق ہم نے ( حضرت ) عثمان سے ذکر کیا لیکن اس نے ان کو چھوڑنے سے انکار کر دیا اور تو بہ نہیں کی۔اس طرح لوگوں کے دل ان کی طرف سے بالکل پھیر کر ہم حج کے بہانہ سے پھر لوٹیں گے اور آ کر محاصرہ کریں گے اور عثمان سے خلافت چھوڑ دینے کا مطالبہ کریں گے اگر اس نے انکار کر دیا تو اسے قتل کر دیں گے۔ان دونوں مخبروں نے ان سب باتوں کی اطلاع آ کر حضرت عثمان کو دی تو آپ ہنسے اور دعا کی کہ یا اللہ ! ان لوگوں پر رحم کر۔اگر تو ان پر رحم نہ کرے تو یہ بد بخت ہو جائیں گے۔پھر آپ نے کوفیوں اور بصریوں کو بلوایا اور مسجد میں نماز کے وقت جمع کیا اور آپ منبر پر چڑھ گئے اور آپ کے اردگر دوہ مفسد بیٹھ گئے۔جب صحابہ کو علم ہوا تو سب مسجد میں آ کر جمع ہو گئے اور ان مفسدوں کے گر د حلقہ کر لیا۔پھر آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور ان لوگوں کا حال سنایا اور ان دونوں آدمیوں نے جو حال دریافت کرنے گئے تھے سب واقعہ کا ذکر کیا۔اس پر صحابہ نے بالا تفاق بآواز بلند پکار کر کہا کہ ان کو قتل کر دو کیونکہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو کوئی اپنی یا کسی اور کی خلافت کے لئے لوگوں کو بُلائے اور اُس وقت لوگوں میں ایک امام موجود ہو تو اس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو گی اور تم ایسے شخص کو قتل کر دو اور حضرت عمرؓ کا بھی یہی فتویٰ ہے۔اس پر حضرت عثمان نے فرمایا کہ انہیں ہم معاف کریں گے اور اس طرح ان کی آنکھیں کھولنے کی کوشش کریں گے۔پھر فرمایا کہ یہ لوگ بعض باتیں بیان کرتے ہیں وہ ایسی باتیں ہیں کہ تم