خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 211
خلافة على منهاج النبوة جلد اول دُور دراز ملکوں میں پھیلا دیں شریروں کی کمریں ٹوٹ جائیں گی۔آپ نے فرمایا کہ جن کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمع کیا تھا میں تو انہیں جلا وطن نہیں کر سکتا۔اس پر حضرت معاویہ رو پڑے اور فرمایا کہ معلوم ہوتا ہے اس فتنہ کے لئے منشائے الہی ہو چکا ہے اور اے امیر المؤمنین ! شاید یہ میری آپ سے آخری ملاقات ہے اس لئے ایک عرض میں آخر میں اور کرتا ہوں کہ اگر آپ اور کچھ بھی نہیں کرتے تو اتنا کریں کہ اعلان کر دیں کہ میرے خون کا بدلہ معاویہ لے گا۔(یعنی بہ صورت آپ کے شہید ہونے کے ) آپ نے فرمایا کہ معاویہ ! تمہاری طبیعت تیز ہے میں ڈرتا ہوں کہ تم مسلمانوں پر سختی کرو گے اس لئے یہ اعلان بھی نہیں کر سکتا۔اس پر روتے روتے حضرت معاویہؓ آپ سے جُدا ہوئے اور مکان سے نکلتے ہوئے یہ کہتے گئے کہ لوگو! ہوشیار رہنا۔اگر اس بوڑھے ( یعنی حضرت عثمان ) کا خون ہوا تو تم لوگ بھی اپنی سزا سے نہیں بچو گے۔اس واقعہ پر ذرا غور کرو اور دیکھو اس انسان کے جس کی نسبت اس قدر بدیاں مشہور کی جاتی تھیں کیا خیالات تھے اور وہ مسلمانوں کا کتنا خیر خواہ تھا اور ان کی بہتری کے لئے کس قدر متفکر رہتا تھا اور کیوں نہ ہوتا۔آپ وہ تھے کہ جنہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یکے بعد دیگرے اپنی دو بیٹیاں بیاہ دی تھیں اور جب دونوں فوت ہوگئیں تو فرمایا تھا کہ اگر میری کوئی تیسری بیٹی ہوتی تو اس کو بھی میں ان سے بیاہ دیتا۔افسوس لوگوں نے اسے خود آ کر نہ دیکھا اور اس کے خلاف شور کر کے دین و دنیا سے کھوئے گئے۔جب مفسدوں نے دیکھا کہ اب حضرت عثمان نے تحقیقات شروع کر دی ہیں اور اس طرح ہمارے منصوبوں کے خراب ہو جانے کا خطرہ ہے تو اُنہوں نے فوراً ادھر اُدھر خطوط دوڑا کر اپنے ہم خیالوں کو جمع کیا کہ مدینہ چل کر حضرت عثمان سے رو برو بات کریں۔چنانچہ ایک جماعت جمع ہو کر مدینہ کی طرف روانہ ہوئی۔حضرت عثمان کو ان کے ارادہ کی پہلے سے ہی اطلاع ہو چکی تھی۔آپ نے دو معتبر آدمیوں کو روانہ کیا کہ ان سے مل کر دریافت کریں کہ ان کا منشا کیا ہے ؟ دونوں نے مدینہ سے باہر جا کر ان سے ملاقات کی اور ان کا عندیہ دریافت کیا۔اُنہوں نے اپنا منشا ان کے آگے بیان کیا پھر اُنہوں نے پوچھا کہ کیا مدینہ