خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 204 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 204

خلافة على منهاج النبوة ۲۰۴ جلد اول لوگ اپنی پہلی حالت کو دیکھو اور سوچو کہ اسلام نے تم لوگوں پر کس قدر احسانات کئے ہیں۔ایک وہ زمانہ تھا کہ تم اہل فارس کے کارندہ تھے اور بالکل ذلیل تھے اسلام کے ذریعہ سے ہی تم کو سب عزت ملی لیکن تم نے بجائے شکریہ ادا کرنے کے ایسی باتیں شروع کر دی ہیں جو اسلام کے لئے ہلاکت کا باعث ہیں۔تم شیطان کا ہتھیار بن گئے ہو وہ جس طرح چاہتا ہے تمہارے ذریعہ سے مسلمانوں میں پھوٹ ڈلوا رہا ہے۔مگر یا درکھو کہ اس بات کا انجام نیک نہ ہوگا اور تم دُکھ پاؤ گے۔بہتر ہے کہ جماعت اسلام میں شامل ہو جاؤ۔میں خوب جانتا ہوں کہ تمہارے دل میں کچھ اور ہے جسے تم ظاہر نہیں کرتے لیکن اللہ تعالیٰ اُسے ظاہر کر کے چھوڑے گا (یعنی تم اصل میں حکومت کے طالب ہو اور چاہتے ہو کہ ہم بادشاہ ہو جائیں اور دین سے متنفر ہو لیکن بظاہر اپنے آپ کو مسلم کہتے ہو ) اس کے بعد حضرت معاویہؓ نے حضرت عثمان کو ان کی حالت سے اطلاع دی اور لکھا کہ وہ لوگ اسلام و عدل سے بیزار ہیں اور ان کی غرض فتنہ کرنا اور مال کمانا ہے پس آپ ان کے متعلق گورنروں کو حکم دے دیجئے کہ ان کو عزت نہ دیں یہ ذلیل لوگ ہیں۔پھر ان لوگوں کو شام سے نکالا گیا اور وہ جزیرہ کی طرف چلے گئے وہاں عبد الرحمن بن خالد بن ولید حاکم تھے اُنہوں نے ان کو نظر بند کر دیا اور کہا کہ اگر اس ملک میں بھی لوگوں کے دلوں میں شکوک وشبہات پیدا کرنے اور فتنہ ڈالنے کی کوشش کی تو یا د رکھو میں ایسی خبر لوں گا کہ سب شیخی کرکری ہو جائے گی۔چنانچہ اُنہوں نے انہیں سخت پہرہ میں رکھاشی کہ ان لوگوں نے آخر میں تو بہ کی کہ اب ہم جھوٹی افواہیں نہ پھیلائیں گے اور اسلام میں تفرقہ ڈالنے کی کوشش نہ کریں گے۔اس پر حضرت عبد الرحمن بن خالد بن ولید نے ان کو اجازت دے دی کہ جہاں چاہو چلے جاؤ اور اشتر کو حضرت عثمان کی خدمت میں بھیجا کہ اب یہ معافی کے طالب ہیں۔آپ نے انہیں معاف کیا اور اختیار دیا کہ جہاں چاہیں رہیں۔اشتر نے کہا کہ ہم عبد الرحمن بن خالد کے پاس ہی رہنا چاہتے ہیں چنانچہ وہیں اُن کو واپس کیا گیا۔اس گروہ کے علاوہ ایک تیسرا گروہ تھا جو تفرقہ کے پیچھے پڑا ہوا تھا۔اس کا سرگروہ ایک شخص حمران بن ابان تھا اس نے ایک عورت سے عدت کے اندر شادی کر لی تھی جس پر اُسے