خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 203 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 203

خلافة على منهاج النبوة ۲۰۳ جلد اول کہ اس قسم کا فساد ہو گیا ہے تو وہ قلعہ کے ارد گرد جمع ہو گئے مگر سعید بن العاص نے ان کو سمجھا کر ہٹا دیا کہ کچھ نہیں سب خیر ہے اور جن لوگوں کو مار پڑی تھی انہیں بھی منع کر دیا کہ تم اس بات کو مشہو ر مت کرنا خواہ مخواہ فساد پڑے گا اور آئندہ سے اس فسادی جماعت کو اپنے پاس آنے سے روک دیا۔جب اُنہوں نے دیکھا کہ ہمیں والی اپنے پاس نہیں آنے دیتا تو اُنہوں نے لوگوں میں طرح طرح کے جھوٹ مشہور کرنے شروع کر دیئے اور دین اسلام پر طعن کرنے لگے اور مختلف تدابیر سے لوگوں کو دین سے بدظن کرنے کی کوشش شروع کی۔اس پر لوگوں نے حضرت عثمانؓ سے شکایت کی اور آپ نے حکم دیا کہ ان کو کوفہ سے جلا وطن کر کے شام بھیج دیا جائے اور حضرت معاویہ کو لکھ دیا کہ ان کی خبر رکھنا۔حضرت معاویہؓ نے نہایت محبت سے ان کو رکھا اور ایک دن موقع پا کر ان کو سمجھایا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد سے پہلے عرب کی کیا حالت تھی اسے یاد کر وا اور غور کرو کہ خدا تعالیٰ نے قریش کے ذریعہ سے تم کو عزت دی ہے پھر قریش سے تمہیں کیوں دشمنی ہے وہ لوگ اس بات پر بھی طعن کرتے تھے کہ خلیفہ قریش میں سے کیوں ہوتے ہیں قریشیوں نے خلافت کو اپنا حق بنا چھوڑا ہے یہ نا جائز ہے ) اگر تم حکام کی عزت نہ کرو گے تو یا درکھو جلد وہ دن آتا ہے کہ خدا تعالیٰ تم پر ایسے لوگوں کو مقرر کرے گا جو تم کو خوب تکلیف دیں گے۔امام ایک ڈھال ہے جو تم کو تکلیف سے بچاتا ہے۔اُنہوں نے کہا کہ قریش کا کیا احسان ہے کیا وہ کوئی بڑی جماعت تھی جن کے ذریعہ سے اسلام کامیاب ہو گیا اور باقی رہا کہ امام ڈھال ہے اور ہمیں تکلیف سے بچا رہا ہے سو یہ خیال مت کرو جب وہ ڈھال ٹوٹ جائے گی تو پھر ہمارے ہاتھ میں دے دی جائے گی۔یعنی خلافت اگر قریش کے ہاتھ سے نکل جائے گی تو پھر ہم ہی ہم اس کے وارث ہیں اس لئے ہمیں اس کا فکر نہیں کہ خلافت قریش کے ہاتھ سے نکل گئی تو پھر کیا ہو گا۔اس پر حضرت معاویہ نے اُن کو سمجھایا کہ ایام جاہلیت کی سی باتیں نہ کرو اسلام میں کسی قوم کا زیادہ یا کم ہونا موجب شرف نہیں رکھا گیا بلکہ دیندار و خدا رسیدہ ہونا اصل سمجھا گیا ہے۔پس جب کہ قریش کو خدا تعالیٰ نے جاہلیت اور اسلام دونوں زمانوں میں ممتاز کیا اور ان کو دین کی اشاعت و حفاظت کا کام سپرد کیا ہے تو تم کو اس پر کیا حسد ہے اور تم