خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 199 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 199

خلافة على منهاج النبوة ١٩٩ جلد اول حضرت صاحب کا معجزہ ہیں اور یہاں کی گلیاں بھی بہت بابرکت ہیں کیونکہ ان میں خدا کا مسیح چلا۔کیا تم نہیں دیکھتے کہ مکہ اور مدینہ کیوں اب بھی بابرکت ہیں۔ان میں کیا ایسی چیز ہے جو کسی اور جگہ نہیں ہے؟ وہ یہ کہ مکہ کی بنیاد حضرت ابراہیم علیہ السلام جیسے برگزیدہ انسان نے رکھی اور مدینہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم رونق افروز رہے۔لیکن اب کیا وہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم موجود ہیں ؟ پھر کیوں اس کی عزت اور توقیر کی جاتی ہے؟ اور رسول اللہ نے یہ کیوں فرمایا ہے کہ میری مسجد میں نماز پڑھنے والے کو بہ نسبت کسی اور مسجد میں پڑھنے والے کے زیادہ ثواب ہو گا حالانکہ وہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا آپ کے صحابہ بھی نہیں ہیں اور اب تو وہاں ایسے علماء رہتے ہیں جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر بھی کفر کا فتویٰ لگا دیا مگر چونکہ وہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم پڑے تھے اس لئے وہ اب بھی مقدس اور مطہر ہی ہے۔پھر مکہ کو دیکھو وہاں نہ حضرت ابراہیم علیہ السلام ہیں اور نہ حضرت اسماعیل اور نہ ہی ان کے صحابہ موجود ہیں مگر چونکہ ان متبرک انسانوں نے اس کی بنیا د رکھی تھی اس لئے باوجود اس وقت ان کے وہاں موجود نہ ہونے کے مکہ ویسا ہی متبرک ہے۔تو جن مقاموں کے ساتھ خدا تعالیٰ کا تعلق ہوتا ہے وہ ہمیشہ کے لئے متبرک بنا دیے جاتے ہیں۔قادیان بھی ایک ایسی ہی جگہ ہے۔یہاں خدا تعالیٰ کا ایک برگزیدہ مبعوث ہوا اور اس نے یہاں ہی اپنی ساری عمر گزاری اور اس جگہ سے وہ بہت محبت رکھتا تھا۔چنانچہ اس موقع پر جب کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام لاہور گئے ہیں اور آپ کا وصال ہو گیا ہے ایک دن مجھے آپ نے ایک مکان میں بلا کر فرمایا۔محمود ! دیکھو یہ دھوپ کیسی زرد سی معلوم ہوتی ہے چونکہ مجھے ویسی ہی معلوم ہوتی تھی جیسی کہ ہر روز دیکھتا تھا میں نے کہا نہیں اسی طرح کی ہے جس طرح کی ہر روز ہوا کرتی ہے۔آپ نے فرمایا نہیں یہاں کی دھوپ کچھ زرد اور مدہم سی ہے۔قادیان کی دھوپ بہت صاف اور عمدہ ہوتی ہے۔چونکہ آپ نے قادیان میں ہی دفن ہونا تھا اس لئے آپ نے یہ ایک ایسی بات فرمائی جس سے قادیان سے آپ کی محبت اور اُلفت کا پتہ لگتا تھا۔کیونکہ جب کہیں سے جدائی ہونے لگتی ہے تو وہاں کی ذرا ذرا چیز سے بھی محبت اور اُلفت کا خیال آتا ہے تو اس جگہ کی چھوٹی سے چھوٹی چیز سے بھی خدا کے مسیح کو وہ