خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 198
خلافة على منهاج النبوة 197 جلد اول ہے ان کے رہنے والوں کے ساتھ بھی وہ اپنے خاص فضل کا سلوک کرتا ہے تو یہاں نہ صرف یہ کہ خود بہت سے لوگ خدا کے فضل سے تفقہ فی الدین رکھتے ہیں بلکہ ہر ایک بات میں دوسروں کو بھی تسلی اور تشفی کرا سکتے ہیں خدا کے فضل سے ، پھر یہاں کی ایک ایک اینٹ ایک ایک مکان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کی دلیل ہے کیونکہ یہ وہ شہر ہے جس کا نام بھی کوئی نہ جانتا تھا مگر اس میں پیدا ہونے والے ایک شخص نے کہا کہ خدا نے مجھے کہا ہے کہ تمہیں تمام جہان میں مشہور کر دوں گا اور یہاں دُور دُور سے لوگ آئیں گے۔چنانچہ وہ مشہور ہو گیا اور دور دراز ملکوں سے لوگ آئے جو آپ کی صداقت کا ایک کھلا کھلا ثبوت ہے۔ایک دفعہ ایک انگریز حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو امریکہ سے ملنے کے لئے آیا۔اس نے آپ سے پوچھا کہ کیا آپ نبی ہیں؟ آپ نے فرمایا ہاں میں نبی ہوں۔اس نے کہا اگر آپ نبی ہیں تو کوئی نشان دکھلائیے۔آپ نے فرمایا آپ ہی میرے نشان ہیں۔اس نے کہا میں کس طرح ہوں؟ فرمایا ایک وقت تھا کہ یہاں مجھے کوئی نہ جانتا تھا اور میں ایک گمنامی کی حالت میں رہتا تھا لیکن آج آپ مجھے امریکہ سے ملنے کے لئے آئے ہیں کیا یہ میری صداقت کا نشان نہیں ہے؟ غرض آپ میں سے ایک ایک شخص اور اس مسجد اور دوسرے مکانوں کی ایک ایک اینٹ آنے والوں کے لئے نشان ہے کیونکہ اگر حضرت صاحب کے ذریعہ یہاں لوگ جمع نہ ہوتے تو کون یہ مسجد میں اور یہ سکول اور یہ بورڈ نگ بنا تا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایسے وقت میں اس کی خبر دی تھی جب کہ کسی کے خیال میں بھی یہ بات نہ آ سکتی تھی۔پھر آپ نے یہ بھی فرمایا ہوا ہے کہ قادیان اُس دریا تک جو یہاں سے سات آٹھ میل کے فاصلہ پر ہے پھیل جائے گا۔چنانچہ ایک میل تک تو اس تھوڑے سے عرصہ میں ہی پھیل گیا ہے۔قاعدہ ہے کہ ابتدا میں ہر ایک چیز آہستہ آہستہ ترقی کرتی ہے اور کچھ عرصے کے بعد یک لخت بہت بڑھ جاتی ہے۔مثلاً بچہ پہلے تھوڑا تھوڑا بڑھتا ہے لیکن ایک وقت میں یک لخت بڑھ جاتا ہے تو یہ قادیان کی ابتدائی ترقی ہے اس سے اس کی انتہائی ترقی کا اندازہ کر لو۔غرض قادیان کی ہر ایک چیز ، ہر ایک درخت ، ہر ایک اینٹ ، ہر ایک مکان نشان ہے۔بہشتی مقبرہ ، حضرت صاحب کا باغ ، بورڈنگ ، سکول ، مسجد میں وغیرہ